http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 08 July, 2007, 07:56 GMT 12:56 PST

چندر شیکھر انتقال کر گئے

ہندوستان کے سابق وزیراعظم چندر شیکھر اتوار کی صبح طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔

اسی سالہ چندر شیکھر کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور گزشتہ ایک ہفتے سے دلی کے اپالو ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے سینٹر میں داخل تھے۔

سماج وادی پارٹی کے قومی صدر چندر شیکھر کا علاج گزشتہ تین ماہ سے جاری تھا۔ گزشتہ سنیچر کو ان کی حالت بگڑ جانے کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ نے ہسپتال کا دورہ کیا تھا اور ان کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کیں تھیں۔

چندر شیکھر کے انتقال کو سیاسی دنیا میں ایک بہت بڑا نقصان مانا جارہا ہے۔

ان کے انتقال پر وزیراعظم منموہن سنگھ نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئےکہا:’وہ سچے سیکولر قوم پرست سیاست داں تھے اور عوام کی ترقی اور بہبود کے لیے کام کرتے تھے‘۔

پارلیمان میں لوک سبھا کے سپیکر سومناتھ چیٹرجی نے بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے چندر شیکھر کو اپنا دوست بتایا۔ مرکز میں ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں عوام کو برابری کے حقوق دلانے کے لیے 80 کے عشرے میں شروع ہونے والی ’لوہیا تحریک‘ اور ’سماج وادی‘ فکر کے صحیح ترجمان تھے۔

چندر شیکھر سیاست کے علاوہ سماجی خدمات اور سیاسی تبصروں کے لیے بھی شہرت رکھتے تھے۔

ملک میں شاید وہ ایسے پہلے سیاسی رہنما تھے جنہیں تمام سیاسی پارٹیاں یکساں طور پر عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ ان کے مخالف بھی ان کی تکریم کرتے تھے۔

چندر شیکھر کا سیاسی سفر

چندر شیکھر کی پیدائش یکم جولائی سن انیس سو ستائیس کو ریاست اترپردیش کے بلیا ضلع میں ایک کاشتکار خاندان میں ہوئی۔ سن انیس سو اکاون میں انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا اور پھر سماج وادی تحریک میں شامل ہوگئے۔ زمانہ طالب علمی ہی سے وہ سیاست میں سرگرم تھے۔

’نوجوان ترک‘ کے نام سے مشہور چندر شیکھر کی سیاسی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ 1975 اور 1977 کے درمیان ملک میں ایمرحنسی کے دوران ان کا اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی سے کسی بات پر تنازعہ ہوگيا اور نتیجتاً وہ کانگریس پارٹی چھوڑ کر جنتا پارٹی میں شامل ہوگئے اور پارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔

چندرشیکھر نومبر انیس سونوے سے مارچ انیس سو اکانوے تک ملک کے
وزیراعظم بھی رہے۔ وہ فی الوقت اترپردیش کے بلیا لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمان تھے۔