Friday, 06 July, 2007, 18:46 GMT 23:46 PST
ریاض مسرور
بی بی سی ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف جمعہ کو ہڑتال کے دوران کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
ہڑتال کی کال علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے بقول ان کے ’کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کی حکومت ہند کی ایک منظم سازش‘ کے خلاف دی تھی۔
مظفرآباد میں مقیم مسلح گروہوں کے اتحاد جہاد کونسل نے اس کی حمایت کی تھی۔ سید علی گیلانی نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ دور دراز دیہات میں فوج کی طرف سے آبادیوں پر کی جانے والی زیادتیوں کے خلاف وہ خود بھی عوامی احتجاج کی قیادت کریں گے۔ تاہم انہیں جمعرات کو ہی نظر بند کیا گیا جبکہ ان کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
گیلانی گروپ کے ترجمان ایاز اکبر کے مطابق جمعرات کو نظر بندی کے دوران ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں سرینگر کے شیر کشمیر میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں داخل کیا گیا۔
مسٹر اکبر نے بی بی سی کو بتایا:’گیلانی صاحب پہلے ہی دل، سینہ اور گردے کے عارضوں میں مبتلا تھے۔ حال ہی میں ممبئی کے ٹاٹا ہسپتال میں ان کےواحد گردے کا آپریشن ہوا تھا۔ کل نظربندی کے دوران ان کے سینے میں درد اُٹھا اور انہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔ فی الوقت ان کی جانچ ہورہی ہے تاہم ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی حالت بہتر ہے‘۔
![]() |
پائین شہر کی جامع مسجد علاقے میں مقامی نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ بارہا مولہ، کپواڑہ، بانڈی پورہ، سوپور، اننت ناگ اور جموں کے بعض مسلم آبادی والے علاقوں سے بھی ہڑتال کی اطلاعات ملی ہیں۔
نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد کے باہرمظاہرین نے ہندوستان اور ہندوستانی افواج کے خلاف نعرے بازی کی اور سرکاری گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں پولیس ترجمان کے مطابق چار افراد زخمی ہوگئے۔
اس دوران گاندربل ضلع کے کنگن علاقے میں جمعرات کی واردات کے خلاف دوسرے دن بھی مظاہرے جاری رہے۔ واضح رہے کہ کنگن علاقے میں ایک دوشیزہ کے ساتھ مبینہ دست درازی کرنے والے فوجی اہلکار نے مظاہرہ کرنے والوں پر گولی چلا کر ایک شخص کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کردیا اور بعد میں خودکشی کرلی تھی۔
مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ وہ ایک لڑکی کو ورغلا کر اس کی عصمت لوٹنا چاہتا تھا۔ فوجی حکام نے پہلے اس بارے میں یہ بیان دیا تھا کہ فوجی اہلکار اور شہری کی موت جنگجوؤں کے حملے میں ہوئی مگر اب اس سلسلے میں تفتیش شروع کردی گئی ہے۔