Tuesday, 26 June, 2007, 14:04 GMT 19:04 PST
ہندوستان کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں پولیس نےگزشتہ دو دن میں سات مبینہ شدت پسند مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے۔
گرفتار ہونے والے افراد کو کولکتہ کی ایک عدالت نے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔
ریاست کے ایک سینئر پولیس اہلکار راجیو کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار کیے گئے سب ہی افراد کا تعلق بنگلہ دیش کی شدت پسند تنظیم ’حرکت الجہاد الاسلامی‘ سے ہے۔
مسٹر کمار کا کہنا ہے کہ سب گرفتاریاں لکھنؤ میں تنظیم کے مبینہ ہندوستانی کمانڈر جلال الدین کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی ہیں۔ پولیس کے مطابق جلال الدین نے پوچھ گچھ کے دوران ان افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔
اترپردیش کی سپیشل ٹاسک فورس نے ’حرکت الجہاد الاسلامی‘ کے جلال الدین اور ان کے ایک معاون کو سنیچرکو گرفتار کیا تھا۔
اترپردیش کے پولیس چیف جی ایل شرما نے دعویٰ کیا کہ اترپردیش کے ضلع جون پور میں دو ہزار پانچ میں شرم جیوی ایکسپریس اور گزشتہ برس بنارس کے سنکٹ موچن مندر میں ہونے والے بم دھماکوں میں جلال الدین کا ہاتھ تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جلال الدین دو ہزار ایک سے ہندوستان میں فعال تھے اور اس دوران انہوں نے ایک سو پچاس بے روزگار مسلمان نوجوانوں کو اپنی تنظیم میں شامل کیا اور انہیں تربیت دینے کے لیے پاکستان بھیجا۔ ان نوجوانوں میں زيادہ تر کا تعلق جلال الدین کی آبائی ریاست مغربی بنگال سے ہے۔
پولیس نے جلال الدین کے ذریعے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات کے بعد کولکتہ کے اطراف کے اضلاع سے سنیچر کو ان افراد کو گرفتار کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد نے قبول کیا ہے کہ ان افراد کو دھماکہ خیز مواد کے استعمال کا طریقہ معلوم ہے اور جب جلال الدین نے ان لوگوں کی بھرتی کی تھی تو انہیں تربیت کے لیے پاکستان بھیجا تھا۔
مغربی بنگال کی پولیس کے مطابق گرفتارکیے گئے شدت پسندوں نے گزشتہ کچھ سال کے دوران سو کلو سے زائد دھماکہ خیز مواد کی سمگلنگ کی ہے۔