http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 25 June, 2007, 13:53 GMT 18:53 PST

گجرات: 9مسلمانوں کو عمر قید

احمدآباد کی ایک خصوصی عدالت نے بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل کے جرم میں نو مسلمانوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

چھبیس مارچ دو ہزار تین کو ہرین پانڈیا کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ صبح کے وقت چہل قدمی پر تھے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پوٹا قانون کے تحت دو دیگر ملزمان کو سات، سات برس اور ایک کو پانچ برس قید با مشقت کی سزا دی ہے۔

موجودہ وزیراعلیٰ نریندر مودی سے ہرین پانڈیا کے شدیداختلافات تھے اور ان کی اہلیہ اور والد نے ان کے قتل کے پیچھے سیاسی سازش کا الزام لگایا تھا۔وہ اس معاملے کی دوبارہ تفتیش چاہتے تھے۔

پانڈیا کے والد وٹھل بھائی نے عدالت کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی بی آئی نے یہ تفتیش پوری طرح بقول ان کے ایل کے اڈوانی اور نریندر مودی کے دباؤ ميں کی ہے۔ ’مجھے معلوم ہے کہ مجھے انصاف نہیں ملے گا‘۔

ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے عدالت کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس معاملے میں انصاف نہيں ہوا ہے۔

پانڈیا کے والد کا اظہارِ مایوسی
 پانڈیا کے والد وٹھل بھائی نے عدالت کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی بی آئی نے یہ تفتیش پوری طرح بقول ان کے ایل کے اڈوانی اور نریندر مودی کے دباؤ ميں کی ہے۔
 
پانڈیا کے والد وٹھل بھائی

ملزمان کی وکیل نتیہ ر اماچندرن نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو چیلنج کریں گی۔ ’سی بی آئی نے کب، کہاں اور کیسے پوچھ گچھ کی ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔ تفتیش میں کمی ہے اور اسی بنیاد پر ہم فیصلے کو چیلنج کریں گے‘۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہےکہ حیدرآباد کے اصغر علی نے ہی ہرین پانڈیا کو گولی ماری تھی جب کہ حیدرآباد کے مفتی احمد میاں صوفیان پتنگیا اور ان کے کئی ساتھیوں کو اس قتل کے پیچھے اصل دماغ قرار دیا گیا ہے۔