http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 23 June, 2007, 14:05 GMT 19:05 PST

ریاست بہار کے شیر خوار ’مجرم‘

اسے پولیس کی غیر ذمہ داری، لاعلمی یا بددیانتی کہیں یا بعض لوگوں کی شر انگیزی کہ بہار میں کتنے ہی شیر خوار اور کمسن بچے اور بچیاں مجرموں کی صف میں کھڑے کر دیے گئے ہیں۔

گزشتہ کچھ سالوں سے اس طرح کے متعدد واقعات کا انکشاف ہوا ہے جہاں سنگین جرائم میں چھوٹے بچوں پر الزام عائد کیے گئے اور اور انہیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔

ان میں سے بیشتر کو یہ معلوم نہیں کہ دودھ پینے اور گھٹنوں کے بل چلنے کی اس عمر میں ان کے ساتھ کیا ظلم کیا جا رہا ہے۔ اس میں سماج سے لے کر پولیس تک ملوث ہے۔

کٹیہار کے نواب گنج گاؤں میں ایک دو سال کی عمر کے ایک لڑکے راج کمار جھا پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ گزشتہ سال محرم کے موقع پر ہونے والی ایک واردات میں ملوث تھا۔ پولیس کی مانیں تو اس نے باقاعدہ رائفل سے گولیاں بھی چلائیں۔ اب اس کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری ہو چکا ہے۔ کٹیہار کے ایس پی انل کشور سنہا بھی تعجب میں ہیں اور انہوں نے اس کی تفصیل طلب کی ہے۔

منہاری تھانہ کے انچارج ستیہ نارئن سنگھ نے بتایا کہ وہ اس معاملے کی تفصیلات معلوم کر رہے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ راج کمار جھا کا نام غلطی سے بھی درج ہو سکتا ہے۔’شاید یہ کیس بچے کے باپ راج نارائن جھا کے نام پر ہونا چاہیے تھا لیکن غلطی سے راج کمار کا نام درج ہوگیا‘۔

یہ تو دو برس کے بچے کا کیس تھا۔

بہار میں ایک تین ماہ کی بچی پر بھی آرمز ایکٹ کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق دو سال کی اس بچی نے پولیس پر ہی حملہ کردیا تھا جب پولیس اس کے والد کو گرفتار کرنے گئی تھی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق اس نے نہ صرف پولیس سے مار پیٹ کی بلکہ ان کی گرفت سے بھی اپنے والد کو رہا کرا لیا۔ چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ نے پولیس کی اس دلیل کو نہ مانتے ہوئے بچی کو ضمانت پر رہا کردیا لیکن اس پر مقدمہ ابھی تک چل رہا ہے۔

اسی طرح بیگو سرائے کے پانچ سالہ سنتوش کمار پر جہیز مخالف قانون کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اس نے اپنی بھابی کو جہیز کے لیے ایذائیں دی تھیں۔

پٹنہ کے راج کمار پر الزام ہے کہ اس نے ایک شادی شدہ خاتون کی عصمت دری کی کوشش کی۔ راج کی عمر چھ سال ہے اور یہ معاملہ بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔