http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 19 June, 2007, 10:43 GMT 15:43 PST

ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

ٹاڈا قانون کے تحت فیصلے چیلنج

انیس سو ترانوے میں ہونے والے بم دھماکوں کی سماعت کرنے والی خصوصی ٹاڈا عدالت کے فیصلوں کو وکیلِ صفائی فرحانہ شاہ نے چیلنج کر دیا ہے۔ شاہ نے منگل کو اب تک مجرم قرار دیے جانے والے سولہ افراد کی جانب سے اپیل داخل کی جس میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ٹاڈا قانون منسوخ ہو چکا ہے تو پھر عدالت کو اس قانون کے تحت سزا دینے کا اختیار نہیں۔

بم نصب کرنے والےمجرمین شعیب گھنسار، اصغر مقدم، کسٹم افسر سومناتھ تھاپا سمیت سولہ مجرمان کی جانب سے اپیل میں ایڈوکیٹ شاہ نے اٹھارہ مئی سن دو ہزار سات کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس مارکنڈے کجو کے ایک فیصلے کی نظیر پیش کی جس کے مطابق ’ایسے میں جبکہ ٹاڈا قانون ختم کیا جا چکا ہے اس کے تحت کسی ملزم کو سزا دینا دستور ہند کی دفعہ چودہ کے خلاف ہے‘۔ اس لیے یہ عدالت مجرمین کو سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی مہلت دے اور تب تک فیصلہ پر عمل ملتوی کر دے۔

شاہ کی اپیل میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ خود ٹاڈا قانون کی دفعہ ایک کے شق چار میں واضح کیا گیا ہے کہ چوبیس مئی انیس سو پچانوے کے بعد سے اس قانون کی اہمیت ختم ہو جائے گی اور اس قانون کو پارلمینٹ نے متفقہ رائے کے بعد منسوخ کر دیا تھا۔

اس اپیل میں ان کے ساتھ کسٹم کلکٹر سومناتھ تھاپا کے وکیل راجیندر شیروڈکر بھی شامل تھے۔خصوصی جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے اس پر سی بی آئی کے وکیل اجول نکم سے ان کی رائے طلب کی۔ نکم نے عدالت میں اس اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے جرح کی کہ سپریم کورٹ کے اس یک رکنی پینچ نے ایک مخصوص کیس میں اپنا فیصلہ سنایا ہے لیکن ذیلی عدالتوں کو اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں کیا ہے۔

عدالت نے دونوں فریقین کی جرح سننے کے بعد عدالتی کارروائی اکیس جون تک ملتوی کر دی۔

اب تک 76 ملزمان کو سزائیں
ٹاڈا کے تحت عدالت نے اٹھارہ مئی سے سو ملزمان کے بارے میں فیصلے سنانے شروع کیے تھے اور اب تک 76 ملزمان کو سزائیں سنائی جا چکی ہے
اس اپیل میں فلم سٹار سنجے دت اور ٹائیگر میمن خاندان کے ممبران شامل نہیں ہیں۔ایڈوکیٹ عباس کاظمی نے فرحانہ شاہ کی اس اپیل کے بارے کہا کہ اس سے پہلے بھی عدالت میں ٹاڈا قانون کے خلاف دو یا تین اپیلیں عدالت سے مسترد ہو چکی ہیں۔

کاظمی کا کہنا ہے کہ ’ ملزمان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی تھی جب قانون موجود تھا اور ٹاڈا قانون ختم کیے جانے سے قبل یہ بات بھی واضح کر دی گئی تھی اس کے تحت جو کیس پہلے سے عدالتوں میں چل رہے ہیں وہ اسی طرح جاری رہیں گے اس لیے اس اپیل کا اب عدالت کی کارروائی پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور بم دھماکہ کیس میں کسی بھی ملزم کی گرفتاری اگر انیس سو پچانوے کے بعد عمل میں آتی تو اس کو چیلنج کیا جا سکتا تھا‘۔

ٹاڈا کے تحت عدالت نے اٹھارہ مئی سے سو ملزمان کے بارے میں فیصلے سنانے شروع کیے تھے اور اب تک 76 ملزمان کو سزائیں سنائی جا چکی ہے۔