Monday, 18 June, 2007, 13:32 GMT 18:32 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ایشیاء کی سب سے بڑی جھونپڑ پٹی دھاراوی کی باز آبادکاری کے خلاف اس کے مکینوں نے ایک احتجاجی مورچہ نکالا ہے۔ مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمینٹ اتھارٹی ( مہاڈا) کی جانب سے ریاستی حکومت کے منصوبے کو دھاراوی بچاؤ تحریک کمیٹی کے ممبران نے پوری طرح سے مسترد کر دیا۔ اس احتجاج کے دوران پورا دھاراوی بند رکھا گیا۔
دھاراوی میں رہنے والے تقریباً پندرہ سے بیس ہزار کے قریب افراد نے اس مورچے میں شامل ہو کر حکومت کو یہ جتانے کی کوشش کی کہ وہ اس منصوبے سے خوش نہیں ہیں۔
دھاراوی بچاؤ سمیتی کے صدر راجو کھورڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومت اپنا اور بلڈر لابی کا فائدہ دیکھ رہی ہے لیکن غریبوں سے ان کی زمین لے کر انہیں ان کا پورا حق نہیں دے رہی ہے۔ ہم نے کئی مرتبہ مہاڈا کے افسران کے ساتھ بات کی لیکن انہوں نے کبھی ہماری بات نہیں سنی اس لیے ہم اس مورچے کے ذریعہ وزیر اعلٰی کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اس منصوبے کے خلاف ہیں۔‘
کمیٹی نے اپنے مطالبات کے لیے ایک میمورنڈم مہاڈا کے نائب صدر آئی ایس چیہل کو دیا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر جھونپڑا باسی کو دو سو پچیس مربع فٹ کے بجائے چار سو مربع فٹ کی جگہ دی جائے۔ جن کے مکانات یا ان کے تجارتی گالے اگر چار سے سے زیادہ کی جگہ پر بنے ہیں تو انہیں اتنی ہی جگہ دی جائے۔ گھر کی اونچائی چودہ فٹ ہو۔ سن انیس سو پچانوے تک کے بنے جھونپڑوں کے بجائے سن دو ہزار تک کے جھونپڑوں کو قانونی حیثیت دی جائے اور انہیں بھی مکانات دیے جائیں۔
مسٹر کھورڈے کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے یہاں کی باز آبادکاری کا جو منصوبہ بنایا وہ دس سال پرانا ہے اور ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ہماری شرائط مانے ورنہ ہم اسے تعمیر کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
آئی ایس چیہل کا کہنا ہے کہ انہیں یہ پتہ تھا کہ کچھ سیاسی پارٹیاں یہاں کے عوام کو مشتعل ضرور کریں گی لیکن انہیں اب بھی یقین ہے کہ بات چیت کے ذریعہ اس مسئلہ کا حل ضرور نکل آئے گا۔
دھاراوی پانچ سو پینتیس ایکڑ زمین پر بسا ہوا ہے۔ یہاں حکومت کے مطابق ستاون ہزار کے قریب گھر ہیں لیکن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ یہاں کم سے کم تراسی ہزار گھر آباد ہیں۔ گیارہ ہزار کے قریب تجارتی اکائیاں ہیں۔ ان میں چمڑے، کپڑے اور کمہاروں کا بزنس ہے جو برسہا برس سے یہاں آباد ہیں۔
مہاڈا کے ماتحت ریاستی حکومت نے دھاراوی کو نئے سرے سے بسانے اور اس کی نو آبادکاری کے لیے نو ہزار دو سو پچاس کروڑ روپے کا ایک منصوبہ بنایا تھا اور اس کے لیے اب عالمی سطح پر ٹینڈر منگوائے گئے ہیں۔ لیکن اس احتجاج کے بعد لگتا ہے کہ اس منصوبے کی راہ اتنی آسان نہیں ہوگی۔