Friday, 15 June, 2007, 12:10 GMT 17:10 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
انڈیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو صدر جمہوریہ کے باوقار عہدے کے لیے نامزد کیا جانا ہی اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ ترقی پسند محاذ کی چیئر پرسن سونیا گاندھی نے بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد سے محترمہ پرتیبھا پاٹل کا نام پیش کیا ہے اور اس پر مہاراشٹر ہی نہیں ملک بھر میں خواتین نے خوشی کا برملا اظہار کر رہی ہیں۔
بی بی سی نے ممبئی میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکنے والی حواتین اور کالج طالبات سے ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی۔
بیگم ریحانہ اندرے شعبہ تعلیم کی ایک سرگرم خاتون ہیں، ممبئی یونیورسٹی اکیڈمک کونسل کی رکن ہونے کے ساتھ رائے گڑھ میں ان کا اپنا ذاتی سکول اور کالج بھی ہے۔ محترمہ پاٹل کی نامزدگی پر انہوں نے کہا کہ ’کانگریس پارٹی نے سونیا گاندھی کی قیادت میں اب تک جتنے فیصلے کیے گئے ان میں یہ سب سے اچھا فیصلہ ہے‘۔
![]() | |
| اب تک جتنے فیصلے کیے گئے ان میں یہ سب سے اچھا فیصلہ ہے |
سیف طیب جی گرلز ہائی سکول کی پرنسپل نجمہ قاضی موجودہ صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کی زبردست پرستار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ پہلی مرتبہ کسی خاتون کو اس باعزت عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے لیکن اگر مسٹر عبدالکلام کی مدت میں توسیع کی جاتی تو انہیں زیادہ خوشی ہوتی کیونکہ ان کی نظر میں وہ واحد ایسے صدر تھے جنہیں دیکھ کر ان کی عظمت کا احساس ہوتا تھا‘۔
![]() | |
| نجمہ قاضی موجودہ صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کی زبردست پرستار ہیں |
کالج طالبات سونیا گاندھی کے اس اقدام سے بہت خوش ہیں۔ جے ہند کالج میں بے اے سال اول کی طالبہ سکینہ ارشاد سید کے مطابق وہ پہلے ہی سونیا گاندھی جیسی با ہمت خاتون کو اپنی زندگی کا آئیڈیل مانتی ہیں اور اب ان کا یہ فیصلہ انہیں مزید خوشی دے رہا ہے۔
![]() | |
| ’محترمہ پاٹل کی نامزدگی کے بعد اب سیاست میں آنے والی خواتین انہیں ایک مثال کے طور پر دیکھیں گی |
![]() | |
| اگر کوئی خاتون محترمہ پاٹل کی طرح اپنا مقام بناتی ہے تو یہی بات ان کی کامیابی کی ضمانت کہلائے گی |
سید روبینہ حسین ایس این ڈی ٹی کالج میں سالِ دوم طالبہ ہیں ان کی زندگی کا آئیڈیل بھی سونیا گاندھی ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ’میں محترمہ پاٹل کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتی لیکن اب جب انہیں صدر جمہوریہ کے لیے نامزد کیے جانے کی خبریں پڑھ کر ان کی زندگی کے بارے میں جانا تو لگا کہ ایسی ہی خواتین ہمارے لیے مشعل راہ ہو سکتی ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہو گی اگر وہ صدر جمہوریہ کی کرسی پر براجمان ہوں اور ہوں گی کیونکہ سونیا گاندھی جو ان کے ساتھ ہیں‘۔
![]() | |
| ایسی ہی خواتین ہمارے لیے مشعل راہ ہو سکتی ہیں |