Thursday, 14 June, 2007, 11:33 GMT 16:33 PST
بینو جوشی
جموں
ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں اسرائیل کا ایک فوجی وفد جموں کے دفاعی ہیڈکواٹر پہنچا ہے۔
دو دن کے دورے کے دوارن یہ وفد انسداد دہشتگردی اور کنٹرول لائن پر پاکستان کی جانب سے مبینہ دراندازی کے حوالے سے ہندوستان کے دفاعی اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کرے گا۔
جموں میں ایک اعلیٰ دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ ’یہ وفد ہندوستانی دفاعی اہلکاروں کے ساتھ علاقہ میں دہشتگردی کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں اور پاکستان کی جانب سے کی جانے والی دراندازی کو چیلنج کرنے کے فوجی طریقہ کار پر بات چیت کرے گا۔‘
ہندوستان نے کنٹرول لائن پر 720 کلومیٹر لمبی باڑ لگا رکھی ہے اور اس باڑ کے آس پاس دراندازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے جو آلات لگائے گئے ہیں وہ اسرائیل سے درآمد کیے گئے ہیں۔
فوجی اہلکار نے مزید بتایا کہ اسرائیلی وفد کنٹرول لائن پر لگائی گئی باڑ کی کارکردگي کا بھی جائزہ لے گا اور دونوں ممالک کے دفاعی تجربات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انڈین فوج کے 16 کور کی ذمہ داری جموں کے جنوبی علاقہ پیر پنجل اور ہند پاک سرحد کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر حفاظتی کام کرنا ہے۔
جموں کشمیر کے دورے کے بعد اسرائیلی وفد جمعہ کو دلی کے لیے روانہ ہوگا جہاں سے وہ ممبئی کے مغربی بحریہ کمانڈر کے ہیڈکواٹر کا دورہ کرے گا۔