ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام , ممبئی
ممبئی کے مدنپورہ علاقے کی دو مسلم طالبات نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے کیونکہ ان کے مطابق انہیں ان کے پڑوسی محمد علی نثار انصاری اور ان کے دیگر ساتھیوں نے نہ صرف دھمکایا بلکہ ان کے گھر میں گھس کر ان کے والدین اور ان کے بھائیوں کو مارا پیٹا۔ انہیں مبینہ طور پر دھمکی دی گئی کہ وہ اپنی لڑکیوں کو اعلی تعلیم نہ دلائیں کیونکہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ہے اور اگر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو اس کے اور برے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
جسٹس رنجنا ڈیسائی اور جسٹس دلیپ بھوسلے پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اس درخواست کا سخت نوٹس لیتے ہوئے علاقے کے پولیس سٹیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ طالبات اور ان کے خاندان کو خوف زدہ کرنے کے عمل کو ہر ممکن طور پر روکنے کی کوشش کریں ورنہ عدالت کو مجبورا اس کیس کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوناپڑے گا۔ عدالت نے پولیس سٹیشن کے انچارج کو بھی اٹھارہ جون تک عدالت کے سامنے حاضر ہو کر اس کیس کی پوری تفصیل پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
ثمینہ کا کہنا ہے کہ ’جب ان لوگوں نے محمد علی کی بات کے برخلاف اعلی تعلیم جاری رکھی تو علی نے اپنی دہشت قائم رکھنے کے لیے انہیں اور ان کے والدین کو بلاوجہ ستانا شروع کیا۔ سات مارچ کو جب وہ دوپہر کے وقت دروازے کے باہر ایک سٹول پر بیٹھ کر پڑھ رہی تھی تومحمد علی نے اس کے سر پر مبینہ طور پر لکڑی سے وار کیا اور فحش گالیاں دیں۔ ثمینہ اس کی رپورٹ لکھوانے پولیس سٹیشن پہنچیں لیکن پولیس نے ان کی مبینہ رپورٹ لکھنے کی بجائے محمد علی کی خاطرداری کی۔
ثمینہ اور زرینہ کے مطابق اس کے بعد محمد علی اور اس کے ساتھیوں نے گیارہ مئی کو ان کے گھر میں گھس کر ان کی والدہ، والد اور ان کے بھائی پر جان لیوا حملہ کیا۔ جس کی وجہ سے ان کے والد اور بھائی کو آٹھ دنوں تک ہسپتال میں علاج کے لیے داخل ہونا پڑا۔ان کے والد کےسر پر آٹھ ٹانکے لگائے گئے اور ان کے بھائی کو چودہ ٹانکے لگے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ عدالت سے ملزم محمد علی کو ایک ہی دن میں ضمانت مل گئی اور اس کی دھمکیوں کا سلسلہ نہیں تھما تو آخر کار انہوں نے عدالت کا سہارا لیا۔
ڈنڈے سے وار اور فحش گالیاں |
چال میں رہنے والی ثناء عابد کہتی ہیں کہ ’اگر ہم کہیں کھڑے ہوگئے تو ہمیں گندی گالیاں دے کر گندی بات کرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ ساری لڑکیاں صرف برقع میں ہی رہیں اور ہمارے والدین پر حکم چلاتا ہے کہ وہ سب کی جلد از جلد شادیاں کر دیں‘۔
محمد علی کی والدہ صادق نثار نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کا بیٹا مذہبی ہے لیکن وہ اسے منع کرتی ہیں کہ وہ کسی کی لڑکی کے بارے میں کچھ بھی نہ کہے۔
محمد علی کے گھر کے باہر دروازے پر مختلف طغرے اور مذہبی اقوال لکھے ہوئے فریم موجود ہیں اور وہ علاقے سے فرار بتایا جاتا ہے۔
ناگپاڑہ پولیس سٹیشن کے انچارج پولیس افسر اے بے ساونت نے بی بی سی سےبات کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس اپنےطور پر کیس کی تحقیقات کر رہی ہے اور یہ بات غلط ہے کہ پولیس نے سات مارچ کو ان طالبات کا کیس نہیں لیا تھا‘۔
![]() | |
| محمد علی اور ان کے ساتھیوں نے ثمینہ و زرینہ کے گھر میں گھس کر ان کے والد اور بھائی کو مارا جس سے ان کے والد کےسر پر آٹھ ٹانکے اور بھائی کو چودہ ٹانکے آئے |
مدنپورہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ یہاں کی لڑکیاں اب اعلی تعلیم حاصل کر رہی ہیں لیکن آج بھی ایسے لوگو ں کی کمی نہیں جو لڑکیوں کے لیے اعلی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے لڑکیاں برقعے پہننے پر مجبور بھی ہیں۔