Tuesday, 12 June, 2007, 13:17 GMT 18:17 PST
مونیکا چڈھا
ممبئی
بھارت میں محکمۂ صحت کے اہلکاروں کا کہنا ہے سنیما گھروں میں جہاں فحش فلموں کی نمائش ہو رہی ہو وہاں کنڈوم تقسیم کرنے کی مہم کافی کامیاب رہی ہے۔
ایک برس قبل شروع کی گئی اس مہم کے بارے میں ریاست گجرات کے سورت شہر کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ مہم ایڈز اور ایچ آئی وی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔
سورت شہر ميں آس پاس کے علاقوں سے ایک بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر کے ہیروں کی فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل ملز میں مزدوری کرنے آتے ہیں۔
یوں تو گجرات ایڈز اور ایچ آئی وی جیسی بیماری کے پھیلاؤ کے اعتبار سے ’حساس‘ ریاست نہیں ہے لیکن سال 2004 میں ملک کے قومی ایڈز کنٹرول تنظیم کے مطابق ریاست میں ایڈز اور ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔
سورت کے میونسپل کارپوریشن کی پروجیکٹ منیجر سنہلتا بھاٹیا نے بتایا کہ ’ہم پہلے ہی ہیرے کی صنعت اور بلڈرز ایسوسی ایشن کے ساتھ کام کر رہے تھے اور جب اس بات کا پتہ چلا کہ ایک بڑی تعداد میں مزدور سنیماگھروں میں فحش فلمیں دیکھنے جا رہے ہیں تو ہم نے ان سنیماگھروں کے منتظمیں سے رابطہ قائم کیا‘۔
ان سنیماگھروں میں 20 سے 30 روپے میں فحش فلمیں دیکھی جا سکتی ہیں اور ایسی فلموں کے شوقین مزدور آسانی سے یہ رقم ادا کرسکتے ہیں۔
سرگم مانو سیوا چیریٹیبل ٹرسٹ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے رکن دنیش پرجا پتی نے بتایا کہ ’جو مزدور اس قسم کی فلمیں دیکھنے آتے ہیں وہ ان سنیما گھروں کے آس پاس گھومنے والی جسم فروشوں کو یا تو سنیما گھروں ہی میں لے جاتے ہیں یا کسی قریبی گیسٹ ہاؤس میں‘۔
لوگ اب کنڈوم میں ہچکچاتے نہیں |
دنیش پرجاپتی نے بتایا کہ ’اب لوگ کنڈوم خریدنے میں ہچکچاتے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی لوگ جنسی امراض سے متعلق صلاح و مشورے کے لیے سماجی کارکنوں کے پاس بھی آتے ہیں‘۔
یو این ایڈز یعنی اقوام متحدہ کی ایڈز سے متعلق ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق انڈيا میں تقریباً 5.7 ملین یا ستاون لاکھ لوگ ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ یہ تعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ ہے لیکن ایک نئے جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تعداد تین ملین تیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔