Saturday, 09 June, 2007, 13:31 GMT 18:31 PST
بھارت میں ایڈز کے حوالے سے کام کرنے والےایک ممتاز کارکن کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے شکار لوگوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر بتائی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 57 لاکھ ہے یہ تعداد دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے لیکن ایڈز مخالف تنظیم ’ آواہن‘ کے اشوک الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمارکے حساب سے یہ تعداد بہت کم ہو سکتی ہے۔
بی بی سی کو اطلاع ملی ہے کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 30 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 57 لاکھ اور تیس لاکھ کا یہ فرق تو ایچ آئی وی کے شکار لوگوں کی گنتی کرنے کے طریقے میں غلطی کی وجہ سے پیدا ہوا ہوگا۔
یہ بات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے بھارت میں ایڈز اور ایچ آئی وی کے خلاف نئی مہم شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں اور اس کے لیے بین الاقوامی امداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی اے پی نے ’آواہن ‘ کے ڈائریکٹر اشوک الیگزینڈر کے حوالے سے کہا ہے ’جو اعداو شمار ہمیں ملے ہیں وہ بہت کم ہیں‘۔
اشوک الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ نئے اعدادو شمار صحیح ہوں گے کیونکہ یہ قبل از زچگی کے کلینکوں ، ایسے گروپوں جن میں ایڈز کے شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہے اور نیشنل فیملی ہیلتھ سروے سے حاصل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعدادو شمار جمع کرنے کا بہتر طریقہ ہے جبکہ پہلے اعدادو شمار صرف قبل از زچگی کے کلینکوں سے حاصل اطلاعات کی بنیاد پر لیے گئے تھے۔
گزشتہ ہفتے ہی ملک کے محکمہ صحت کےافسران نے ریاست بہار اور اتر پردیش میں ایچ آئی وی سے متاثرہ حاملہ عورتوں کی تعداد میں اضافے پر تشویش ظاہر کی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ ان ریاستوں کے لوگ کام کی تلاش میں ملک کے بڑے شہروں میں جاتے ہیں اور اپنے ساتھ یہ وائرس لیکر واپس آتے ہیں۔