Tuesday, 05 June, 2007, 17:58 GMT 22:58 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بھارت میں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس سال مئی کے مہینے میں دلی میں پہلے کے نسبت چار گناہ زیادہ بارش ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ تبدیلی مغربی ہواؤں میں تغیر یا ’ویسٹرن ڈسٹربنس‘ کے سبب ہوئی ہے لیکن بعض ماہرین کے مطابق موسم میں ایسی تبدیلیاں گلوبل ورامنگ کے سبب ہو رہی ہیں۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ماحولیات کے پروفیسر اے ایل رامو ناتھن کہتے ہیں کہ یوں تو گلوبل وارمنگ کے اثرات روز مرہ کی زندگی پر پڑ رہے ہیں لیکن موسم سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ ’مئی میں اس قدر بارش سبھی کے لیے ایک نئی بات ہے۔ یہ درست ہے کہ اس تبدیلی میں گلوبل وارمنگ کا اہم رول ہے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ زیادہ رول کس کا ہے، ویسٹرن ڈسٹربنس کا یا گلوبل وارمنگ کا، اس پر متضاد دعوے ہیں اور تحقیق جاری ہے‘۔
پرفیسر رامو ناتھن کے مطابق ماحولیات کی تبدیلی سے ہمالیائی گلیشیر تیزی سے پگھل ر ہے ہیں جس کے اثرات دریاؤں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ بقول ان کے اس کا زیادہ اثر، فضائی آلودگی اور پانی پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق ’دلی اور اس کے آس پاس بلکہ شمالی ہند کے بیشتر علاقوں میں پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے، فضائی آلودگی پہلے سے کہیں زیادہ ہے، آندھیاں، اولے، سردی، بےموسم کی بارش اور سیلاب کے علاقے بھی بدل رہے ہیں‘۔
گوبل وارمنگ پر بھارت میں گہری تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ماحولیات کے موضوع پر پارلیمان میں بحث کے دوران کئی ارکان نے اس پر فوری توجہ دینے پر زور دیا تھا۔ سابق مرکزی وزیر مینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ ’بیس فیصد مشکل میں ہم پہلے پھنس چکے ہیں اور اگر اس کے لیے پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی گئی تو پھر ماحولیات کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل سے نکلنا مشکل ہو جائے گا‘۔
![]() | |
| مئی کے مہینے میں دلی میں اس قدر بارش سبھی کے لیے ایک نئی بات ہے |
مینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ اب وقت آپہنچا ہے کہ پودے لگانے کی مہم شروع ہو، پرانی گاڑیاں ہٹائی جائیں اور کھیت اور جنگلات کے جلانے پر پابندی عائد کر دی جائے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جرمنی کی جی آٹھ کانفرنس بھی اس کے لیے اس لحاظ سے زیادہ اہم کہ اس میں ماحولیات کے معاملے کو اہمیت دی جائےگی۔
خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’ملک کی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ یہ ترقی ماحولیات فرینڈلی ہو تاکہ شہریوں پر اس کے مثبت اثرات پڑیں اور بھارتی وفد جرمنی میں اس بات پر زیادہ توجہ دےگا‘۔
ماہرین کے مطابق اس پر قابو پانے کے لیے لوگوں میں بیداری بہت ضروری ہے۔ پروفیسر رامو ناتھن کہتے ہیں کہ ’اس کی روک تھام کے لیے ہر فرد کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے، ناخواندہ لوگوں کو بھی یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ کن چیزوں سے ان کا ماحول خراب ہورہا ہے چونکہ زیادہ تر آلودگی عوام کے ذریعے پھیلتی ہے اس لیے بغیر بیداری کے اس پر قابو پانا مشکل ہے‘۔