Monday, 04 June, 2007, 08:10 GMT 13:10 PST
راجستھان کی گجر برادری کی حمایت میں دلی اور اس کے مضافات میں آباد گجر برادریوں کی ہڑتال کے سبب قومی دارالحکومت دلی کے داخلی راستوں پر آمد رفت متاثر ہوئی ہے۔
دلی کے نواحی شہروں میں بھی معمول کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ تاہم دِلّی شہر میں ہڑتال کا کوئی اثر نہیں ہے۔ اس دوران جے پور میں گجر رہنماؤں اور وزیر اعلیٰ وسوندھرا راجے سندھیا کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ گجر ملازمتوں اور دیگر معاملات میں اسی طرح کی سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں جو دلتوں کے لیے مخصوص ہیں۔
دلی کے مضافاتی شہروں گڑگاؤں، فریدآباد ، غازی آباد، نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا سے گزرنے والی تمام سڑکوں اور شاہراہوں کو گجر برادری کے احتجاجی مظاہرین اور مشتعل ہجوم نے جام کر رکھا ہے اور اس طرح دلی سے ہریانہ اور اترپردیش کے درمیان ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے۔
دوسری جانب گجر سنگھرش سمیتی کے رہنما کرنل کروڑی سنگھ بینسالا ریاست میں امن کی بحالی اور اپنی برادری کی ’فہرست قبائل‘ میں شمولیت کے سلسلے میں مذاکرات کے لیے راجستھان کے دارلحکومت جے پور پہنچ چکے ہیں اور وزیر اعلیٰ سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ حکومت اور گجر برادری کے مابین بات چیت کے پہلے چار دور بے نتیجہ رہے ہیں۔
راجستھان میں حکمران جماعت بھاریتہ جنتا پارٹی کے قومی عہدے داروں کی ایک میٹنگ دلی ميں ہورہی ہے جس میں ریاست میں گزشتہ سات روز سے جاری کشید گی اور تنازعہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا جائےگا۔
ریاست میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور حکومت نے ریاست کے چودہ اضلاع میں نیشنل سکیورٹی ایکٹ نافذ کر دیا ہے جس کے تحت ضلعی انتظامیہ کو حالات پر قابو پانے کے لیے خصوصی اختیارت حاصل ہوتے ہیں۔
گزشتہ سات روز سے ریاست میں جاری تنازعہ کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں پچیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تاہم گزشتہ دو روز سے کسی ہلاکت کی کوئی خبر نہیں ہے۔
پسماندہ طبقہ کی گجر برادری درج ’فہرست قبائل‘ میں اپنی شمولیت چاہتی ہے تاکہ اسے ریزرویشن کا فائدہ مل سکے۔ لیکن اس فہرست میں شامل مینا برادری اس کی سخت مخالف ہے۔ مینا برادری کے افراد گجر برادری کو حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور اس سے نمٹنے میں ناکام رہنے پر وزیراعلیٰ وسوندھرا رجے سندھیا پر سخت نکتہ چینی ہو رہی ہے۔