Sunday, 03 June, 2007, 10:40 GMT 15:40 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ہندوستان کے اقتصادی شہر ممبئی میں واقع ایشیاء کی ایک بڑی جھوپڑ بستی ’دھراوی‘ کو خوبصورت رہائشی اور تجارتی علاقے میں تبدیل کرنے کے لیے ٹینڈر طلب کر لیے گئے ہیں۔
پانچ سو پینتیس ایکڑ زمین پر آباد دھراوی کے لیے ٹینڈر عالمی سطح پر طلب کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک متحدہ عرب امارات سے دبئی برج اور امار پراپرٹیز کے علاوہ ہانگ کانگ، اسرائیل، سنگاپور، کی کمپنیوں نے ٹینڈر بھرے ہیں اور اس ماہ کے آخر تک بھارتی نامور کمپنیوں کے ساتھ دنیا کی مزید کمپنیوں کے شامل ہونے کے بھی امکانات ہیں۔
مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( مہاڈا ) کے نائب صدر اور دھراوی آبادکاری منصوبہ ( ڈی آر پی ) کے نگراں آئی ایس چہیل کے مطابق ’یہ پراجیکٹ نو ہزار دو سو پچاس کروڑ روپوں کا ہے اور اسے مکمل کرنے کے لیے کم سے کم سات سال کا عرصہ درکار ہوگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ٹینڈر بھرنے کے لیے فارموں کی تقسیم جاری ہے اور اگست میں ٹینڈر کھولے جائیں گے۔
![]() | |
| یہاں کم سے کم چھ سو عمارتیں بنیں گی |
مسٹر چیہل کے مطابق انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سن دو ہزار تک کی جھوپڑیوں کو اس پراجیکٹ میں شامل کیا جائے کیونکہ ویسے بھی ان کی تعداد اب بڑھ کر کم سے کم سترہ ہزار ہو چکی ہے اور انہیں ایک ساتھ اجاڑ کر کہیں اور جگہ دینے سے بہتر ہے کہ انہیں یہیں بسایا جائے۔
ستاون ہزار سے زائد لوگوں کا بسانے کے لیے یہاں کم سے کم چھ سو عمارتیں بنیں گی، چار نئی سڑکوں کی تعمیر ہو گی اور سکول، پارک اور ہسپتال بنائے جائیں گے۔ ان کے علاوہ اہم بنیادی سہولیات جیسے گندے پانی کی نکاسی کے لیے پائپ لائن کے علاوہ پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
![]() | |
| یہاں کی لیدر انڈسٹری کو بہت اہمیت حاصل ہے |
اس پراجیکٹ کی وجہ سے یہاں کے انڈسٹری مالکان اور مقامی افراد بھی ناخوش ہیں۔ پراجیکٹ کے تحت سب سے پہلے چمڑے کی صنعت کو یہاں سے منتقل کیا جائےگا۔ یہاں کی لیدر انڈسٹری کو بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہاں کے بنے بیگ، پرس اور جیکٹیں برآمد کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان اشیاء کی ممبئی میں بھی بڑی کھپت ہے اور اس صنعت سے وابسطہ لوگ سب سے زیادہ ناراض ہیں۔
![]() | |
| کمہاروں کو البتہ اس جگہ سے منتقل نہیں کیا جائے گا |
کمہاروں کو البتہ اس جگہ سے منتقل نہیں کیا جائے گا لیکن انہیں بھی ایک دکھ ہے کہ انہیں بھی اتنی جگہ نہیں مل سکے گی جتنی اس وقت ان کے پاس ہے۔ لکشمی کامبلے جانتی ہیں کہ حکومت کوئی منصوبہ بنا رہی ہے لیکن وہ نہیں جانتیں کہ وہ کیا ہے۔’ہمیں اپنے کام کے لیے بہت جگہ چاہیئے۔ مٹی رکھنی ہوتی ہے، پھرگھڑوں کو بنانا اور بعد میں انہیں بھٹی میں ڈالنا پڑتا ہے۔‘
چیہل کا کہنا ہے کہ ’پراجیکٹ کے مطابق جن کے پاس ایک ہزار مربع فٹ کی اپنی جگہ ہے انہیں اپنی جگہ کا صرف دس فیصد حصہ چھوڑنا ہوگا۔ لیکن اگر پندرہ سو مربع فٹ کی جگہ ہے تو انہیں بیس فیصد اور اس سے زیادہ کو تیس فیصد کا نقصان ہو گا اور اس کے بعد باقی جگہ کے لیے انہیں اپنے تعمیر کے اخراجات بھی برداشت کرنا ہوں گے۔‘
![]() | |
| دھاراوی میں چھوٹی بڑی انڈسٹری سمیت پانچ ہزار کے قریب تجارتی گالے ہیں |
حکومت جب یہ پراجیکٹ شروع کرے گی تو اسے لوگوں کی ناراضگی اور بہت سی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چیہل اس بات سے واقف ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی مخالفت کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن انہیں یقین ہے کہ یہ پراجیکٹ مکمل ہوگا۔‘