Friday, 01 June, 2007, 11:45 GMT 16:45 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
مظفرپور کی مشہور لیچی شدید گرمی کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہے اور لیچی کے کاشت کار زبردست نقصان برداشت کرنے کو مجبور ہو رہے ہیں۔
مظفرپور کے ضلعی باغبانی افسر ڈاکٹر راکیش کمار کے مطابق بارش نہ ہونے کی وجہ سے لیچی کا پھل جھلس رہا ہے۔ بقول ڈاکٹر راکیش ’اس وجہ سے کسان پھل پکنے سے پہلے اسے توڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں جس وجہ سے اس میں مٹھاس نہیں آ پا رہی۔‘
لیچی کی بہتر کاشت کے لۓ پینتیس ڈگری کے قریب کا درجہ حرارت بہتر مانا جاتا ہے لیکن اس وقت مظفر پور اور ارد گرد کے علاقوں میں درجہ حرارت تینتالیس سے چوالیس ڈگری کے قریب پہنچ چکا ہے۔
کسان لیڈراور لیچی برآمد کرنے والے بھولا ناتھ جھا کا کہنا ہے کہ مظفرپور کی لیچی کی شہرت چاہے جتنی ہو لیچی پیدا کرنے والے کسان کے لۓ یہ خسارے کی کھیتی ثابت ہو رہی ہے۔
![]() | |
| لیچی سکواش اور شراب جیسی اشیاء کے لیے بھی باہر بھیجی جاتی ہے |
ایک کسان کوشلیندر نے بتایا کہ جس باغ کے لیے انہیں گزشتہ سال اکیس ہزار روپے ملے تھے اس کے لئے انہیں اس بار صرف چھ ہزار روپے ہی مل سکے۔
واضح رہے کہ اس علاقے میں لیچی کے بڑے تاجر لیچی کی فروخت براہ راست باغوں سے کرتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پھل ریل گاڑی کے ذریعہ دلی اور ممبی جیسے شہروں کو بھیجا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ لیچی کے گودے سے بننے والی سکواش اور شراب جیسی دیگر اشیاء کے لیۓ بھی لیچی باہر بھیجی جاتی ہے۔
لیچی کے کسانوں کو خدشہ ہے کہ شاہی لیچی کے بعد پکنے والی ’چائنا لیچی‘ بھی بارش کی کمی کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے بارش شروع ہونے میں کم از کم ایک ہفتے کا مزید وقت لگنے کی بات کہی جا رہی ہے۔
کسان لیڈر بھولا ناتھ جھا کہتے ہیں کہ لیچی بہت کم دنوں تک ٹکنے والا پھل ہے۔ ان کے مطابق اگر گرمی کا یہی حال رہا تو آئندہ برس کسان لیچی کی جگہ دوسرے پھل کی جانب توجہ مرکوز کرنے کو مجبور ہوں گے۔