Saturday, 26 May, 2007, 11:36 GMT 16:36 PST
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک بھارتی فوج ہلاک ہوگیا ہے۔ جموں میں پونچھ کےنزدیک لائن آف کنٹرول پر جھڑپ اب بھی جاری ہے جس میں ایک فوجی زخمی بھی ہوا ہے۔
فوج میں رابطہ عامہ کے افسرکرنل گوسوامی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح فوج نے بعض دراندازوں کو لائن آف کنٹرول پار کرتے دیکھا جس کے بعد دونوں میں لڑآئی شرع ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسند آس پاس کے جنگلوں میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
کرنل گوسوامی نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرحد پارسے پاکستانی فوج نے فائرنگ کی ہے۔ اس طرح کی خبریں گرم تھیں کہ دونوں جانب کی فوجوں کے درمیان گولی باری کا تبادلہ ہواہے۔ دونوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ نومبر دوہزار تین میں ہوا تھا۔
ادھر ریاست کے وزیراعلی غلام نبی آزاد نے ایک بار پھر کشمیر سے فوج کے انخلاء کی تردید کی ہے۔ انہوں نے سری نگر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ مارچ سے دو سو چھیالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مدت میں تشدد کے تقریباً تین سو سترواقعات ہوئے میں اور دراندازی میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے کہا: ’ اگر تشدد میں کمی آئی ہو تو بھی میں فوج کا انخلاء نہیں چاہتا ، کیونکہ اگر تین چار ماہ میں کچھ گڑ بڑ ہوئی تو اسے درست کرنے کے لیے مجھے اس سے زیادہ فوج بلانی پڑ سکتی ہے‘۔
لیکن اسی کانفرنس میں موجود ایک مرکزی وزیر سیف الدین سوز سوز نے کہا کہ ان کی نظر میں فوج سرحدوں کی نگرانی کرے اور اندرونی امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس کی موجودگی کافی ہوگی۔