ہندوستان کی حکومت نے سوشل سکیورٹی کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد 390 ملین غریب اور ایسے مزدوروں کو فائدہ پہنچانا ہے جن کی کوئی یونین نہیں ہے۔
اگر یہ سکیم پارلیمنٹ سے منظور ہو جاتی ہے تو ان مزدوروں کو لائف انشورنس اور پنشن جیسی سہولیات مہیا کرائی جائیں گی۔
ایک ارب سے زائد آبادی والے ہندوستان کے ایک تہائی سے زیادہ مزدوروں کی آمدنی یومیہ ایک ڈالر سے بھی کم ہے۔
گزشتہ سال حکومت نے دیہی غربت سے نپٹنے کے لیے بہت ہی پر عزم کوششیں شروع کی تھیں۔
سوشل سکیورٹی کے بل کو کابینہ کے اجلاس میں منظوری دے دی گئی ہے اس اجلاس کی صدارت وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کی تھی۔
اس سکیم کا اعلان کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر پریہ رنجن داس منشی نے کہا کہ ’یہ ایک انقلابی قدم‘ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس بل کے مسودے کو اگست میں پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ ہندوستان میں نوے فیصد سے زائد مزدور کسی منظم یونین سے وابستہ نہیں ہیں۔
یہ مزدور کھیتوں ، اینٹوں کے بھٹوں ، اور عمارتوں کی تعمیر کے مزدوروں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔اس نئی سکیم کے تحت بغیر یونین والے مزدور لائف انشورنس ، صحت اور معذوری کی بنیاد پر ملنے والی امدادکے حقدار ہوں گے اور وہ یہ تمام فائدے صرف ایک روپیہ روز دے کر حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق اس سکیم کو نافذ کرنے کے لیے حکومت کو 22 اعشاریہ 2 بلین ڈالر کی ضرورت ہوگی۔
وزیراعظم نے ایک پیغام میں ملک کے کاروباری حلقوں کو عام لوگوں کے تیئں ان کی ذمہ داری کا احساس دلایااور اقتصادی ترقی کو غریبوں کے ساتھ بانٹنے کے دس نکاتی سوشل چارٹر کی حمایت کی۔
کنفڈریشن آف انڈین انڈسٹری سالانہ اجلاس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کارپوریٹ کی سماجی ذمہ داری کو صرف ٹیکس عائد کرنے کی حکمت عملی تک ہی محدود نہیں کیا جانا چاہئیے۔
ہندوستان میں کانگریس پارٹی کی قیادت والی حکومت نے اسی ہفتے اقتدار میں اپنے تین سال مکمل کیے ہیں۔