http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 24 May, 2007, 16:30 GMT 21:30 PST

ہاشم پورہ فسادات کے متاثرین کی اپیل

بیس برس پہلے ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ کے ہاشم پورہ قتل واقعہ کے متاثرین، مقتول کے رشتے دار اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے لکھنؤ میں معلومات کے حق کے قانون کے تحت 615 درخواستیں داخل کی ہیں۔

ان لوگوں نے یہ درخواستیں ریاستی وزارت داخلہ اور پولیس محکمہ میں داخل کی ہیں۔ درخواست دہندگان نے حکومت سے یہ جانکاری مانگی ہے کہ فسادات کی سی آئی ڈی جانچ کو منظر عام پر لایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ اب تک حکومت نے قاتلوں کو کیا سزا دی ہے اور ان کے خلاف کیا کاروائی کی گئی ہے۔

ہاشم پورہ فسادات: بیس سال بعد انصاف کے منتظر

درخواست دہندگان کا مطالبہ ہے کہ انہیں یہ بتایا جائے کہ کن افسروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہے اور کیوں نہیں کی گئی ہے۔ یہ ساری تفصیلات دی جائیں اور ان تمام تفصیلات کی کاپی حکومت درخواست دہندگان کو دستیاب کرائے۔

دو درخواست اس معاملے کی وکیل ورندا گروور نے داخل کی ہیں۔ درخواست حاصل کرنے والے پولیس اہلکار ڈی سی پانڈے نے کہا کہ وہ تمام جانکاری درخواست دہندگان کو ایک مہینے کے اندر دستیاب کرا دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ان سے جو معلومات مانگی گئی ہیں وہ مختلف محکموں سے منسلک ہیں اور اس سلسلے میں تمام اقدام جلد از جلد اٹھائے جائیں گے۔

پولیس کو ان تفصیلات کو اکٹھا کرنے کے لیے محکمۂ سی آئی ڈی، داخلہ، پولیس اور پی اے سی سے رابطہ کرنی ہوگی۔

بائيس مئی کو مسلح پی اے سی کے جوانوں نے میرٹھ کے ہاشم پورہ محلہ میں چھ سو چوالیس افراد کو گرفتار کیا جو سبھی مسلمان تھے۔ ان میں سے تقریبا پچاس مسلمانوں کو جن میں بیشتر نوجوان تھے، ایک نہر کے نزدیک لے جا کر پی اے سی کے جوانوں نے مبینہ طور پر گولی مار کر نہر میں پھینک دیا تھا۔ ان میں سے پانچ گولی لگنے کے بعد بھی زندہ بچ نکلے تھے جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔

اس واقعہ میں پی اے سی کے انیس جوانوں کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیا گيا ہے جن میں قتل، قتل کی کوشش کرنا، اغواء کرنے کے الزامات ہیں۔

پی اے سی کے اڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈی پی ایس سدھو نے بتایا کہ جن پی اے سی جوانوں پر مقدمات ہیں ان میں ایک کا انتقال ہوچکا ہے ۔ایک ریٹائر ہو چکے ہیں اور چھ کا اس محکمہ سے تبادلہ ہو چکا ہے۔