Tuesday, 22 May, 2007, 03:16 GMT 08:16 PST
سکھوں کے دو فرقوں کے درمیان کشیدگی اور ایک گروپ کی جانب سے منگل کو عام ہڑتال کی اپیل کے بعد بھارتی پنجاب میں سکیورٹی دستوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ہڑتال کی اپیل کرنے والے ’اکال تخت‘ فرقے نے مخالف ’ڈیرا سچا سودا‘ کے رہنما سے ایک اشتہار میں سکھوں کےگرو، گرو گوبند سنگھ کی پوشاک میں دکھائی دینے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا جسے مسترد کردیا گیا تھا اور تاحال دونوں فرقوں کے بیچ مفاہمت نہیں ہو سکی ہے۔
ہڑتال کے موقع پر کسی ناخوشگوار واقعہ کے تدارک کے لیے ریاست بھر میں ہزاروں اضافی پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔
سکیورٹی دستوں نے پرتشدد احتجاج کو مدِ نظر رکھتے ہوئے’ڈیرہ سچا سودا‘ کے مرکزی ڈیرے کے اردگرد رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔ مرکزی ڈیرے اور اس کے قرب وجوار میں ڈیرا سچا سودا کے بیس ہزار عقیدت مند رہائش پذیر ہیں۔
اس تنازعے کے حوالے سے نہ صرف ریاست پنجاب میں احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں بلکہ پرتشدد واقعات میں ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
ان واقعات کے بعد’ڈیرا‘ کے سربراہ گرمیت سنگھ رام رحیم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گيا تھا جس میں ان پر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا الزام لگایاگيا۔ خیال رہے کہ پہلے ہی گرمیت سنگھ رام رحیم اپنے ایک بیان میں پورے معاملہ کو افسوس ناک قرار دے چکے ہیں۔