Tuesday, 22 May, 2007, 15:47 GMT 20:47 PST
جے پی یادو
پٹنہ
ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کو ساٹھ برس ہو چکے ہیں لیکن ماضي کی تلخ سچائیاں بٹوارے میں تقسیم ہو جانے والے خاندانوں کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہیں۔
حاجی شیخ منظور کی عمر نوے برس ہے۔ وہ پاکستانی شہری ہیں اور وہ لمبے عرصے کے بعد، ہندوستان کی ریاست بہار میں رہنے والے اپنے بیٹے اور پوتے پوتیوں سے ملے ہیں۔
شیخ منظور بہار کے سمستی پور ضلع کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ محکمہ ڈاک اور ٹیلی گراف میں کام کرتے تھے اور مسلسل تبادلوں کے سبب تقسیم کے بعد پاکستان رہ گئے تھے۔ اب وہ اپنی باقی زندگی بہار میں ہي گزارنا چاہتے ہیں اور یہیں کی مٹی میں دفن ہونا چاہتے ہیں لیکن قانونی پیچیدگیاں ان کی آخری تمنا کے پورا ہونے میں پریشانی بنی ہوئی ہیں۔
ریاستی محکمہ داخلہ نے انہیں ایک نوٹس بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے ویزا کی معیاد ختم ہوچکی ہے اور وہ جلد سے جلد واپس پاکستان چلے جائیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر شیخ منظور جلد پاکستان واپس نہیں جاتے ہیں تو قانون کے تحت انہیں جبراً ملک سے بھیج دیا جائے گا۔
مسٹر شیخ گزشتہ برس جولائی میں دو مہینے کے ویزا پر سمستی پور میں اپنے آبائی گاؤں بھیروکھارا آئے تھے لیکن بعد میں طبی وجوہ کی بنیاد پر ان کے ویزا کی مدت میں توسیع کردی جو اس برس تیس اپریل کو ختم ہو چکی ہے۔
شیخ منظور واپس پاکستان نہیں جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کے سبب وہ پوری طرح سے لاچار ہیں۔ ان کی ریڑھ کی ہڈي ٹوٹی ہوئی ہے اور انہیں سننے اور دیکھنے میں بھی دقت کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں کسی مدد بغیر چل پھر نہیں سکتا۔ کھانا بھی مجھے دوسرے لوگ کھلاتے ہیں۔ پاکستان میں میری دیکھ بھال کے لیے کوئی نہیں ہے۔ میں ہندوستان کی حکومت سے گزارش کرتا ہوں وہ کہ مجھے یہیں مرنے کی اجازت دیدے‘۔
![]() | |
| حاجی شیخ منظور کی عمر نوے برس ہے اور وہ لمبے عرصے بعد بہار میں اپنے بیٹے اور پوتے پوتیوں سے ملے ہیں |
بہار کے داخلہ سکریٹری افضل امان اللہ کا کہنا ہے کے ’یہ معاملہ وزاراتِ داخلہ اور وزارات خارجہ کا ہے اور یہی وزارات مسٹر شیخ کو ہندوستان میں رہنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اس معاملے میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے‘۔
شیخ منظور کے بیٹے حیات محمد کا کہنا ہے کہ سنہ 1969تک ان کے والد سے ان کا باقاعدہ رابطہ تھا لیکن 1971میں بنگلہ دیش جنگ کے دوران انکا رابط ختم ہوگیا۔ انہوں اپنے والد کا پتہ لگانے کے لیے ریڈ کراس اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل سے رابطہ قائم کیا لیکن کوئی مدد حاصل نہیں ہوئی۔
انکی آخری رسوم بھی ہوچکی تھیں |
1980کے عشرے میں مسٹر شیخ نے اپنے گھروالوں کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ کراچی میں رہ رہے ہيں اور اس کے بعد سے ان کے خاندان کا ان سے رابطہ ممکن ہوا۔ سنہ دوہزار چھ میں مسٹر شیخ نے اپنے بیٹوں سے انہیں واپس ہندوستان لے جانے کو کہا کیونکہ اس وقت تک وہ بوڑھے ہو چکے تھے اور پاکستان میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
دو ہزار چھ میں امین محمد پاکستان گئے اور اپنے والد کو ہندوستان واپس لے آئے اور اب عمر رسیدہ شیخ منظور اپنا آخری وقت ہندوستان میں اپنے بچوں کے ساتھ گزارنہ چاہتے ہیں۔