Thursday, 17 May, 2007, 07:14 GMT 12:14 PST
ہندوستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ مسلح افواج میں مذہب کی بنیاد پرگنتی نہیں کی جائے گی کیونکہ ایسا کرنے سے فوج کے سکیولر اور غیر سیاسی امیج کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بدھ کو راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں وزیر دفاع اے کے انٹنی نے کہا: ’افواج میں اس طرح کی تعداد کے تعین کو سود مند نہیں مانا گيا کیونکہ ایسا کرنے سے افواج کی اخلاقیات اور ربط پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔‘
اے کے انٹنی سے جب یہ پوچھا گیا کہ مسلح افواج نے مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی راجیندر سچّر کمیٹی کوافواج کی تینوں شاخوں میں مسلمانوں کی تعداد بتانےسے کیوں انکار کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ فوج ایک سکیولر اور غیر سیاسی ادارہ ہے۔
وزیر دفاع نے پارلیمان میں بتایا کہ افواج میں بحالی خالصتاً صلاحیت اور بلا امتیاز مذہب، ذات اور خطے کی بنیاد پر ہوتی ہے اور افواج کے دروازے سب ہی ہندوستانیوں کے لیے کھلے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی افواج میں جو افراد کام کر رہے ہیں وہ سب فرقوں اور خطوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنا فرض منصبی بلا تفریق ذات اور مذہب کے انجام دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس حکمراں ترقی پسند اتحاد کی جانب سے قائم کی گئی راجیندر سچّر کمیٹی نے فوج کی تینوں شاخوں میں مسلمانوں کی تعداد بتانے کے لیے کہا تھا۔
اس وقت حکومت کی جانب سے سچر کمیٹی کی تشکیل کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں نے زبردست مخالفت کی تھی اور مسلح افواج میں مسلمانوں کی گنتی کو ہندو نظریاتی تنظیموں نے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ اور اقلیتوں کو خوش کرنے والا اقدام بتایا تھا۔
سچر کمیٹی نے افواج سے مسلمانوں کی تعداد کی تفصیلات گزشتہ سال مارچ میں طلب کی تھیں لیکن اس وقت فوج کے سربراہ جے جے سنگھ نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی تھی کہ اس سے فوج کو ایک غلط اشارہ ملے گا جو بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی اور سکیولر ادارہ ہے۔
خیال رہے کہ دیگر ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مسلح افواج میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم بتائی جاتی ہے۔