Wednesday, 16 May, 2007, 08:38 GMT 13:38 PST
ہندوستان کی ریاست پنجاب، جموں و کشمیر اور راجستھان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں سکھ مذہب کے دو فرقوں کے درمیان دو دن سے جاری کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔
منگل کو پنجاب کے شہر بھٹنڈا، امرتسر، جالندھر، لودھیانا، موگا اور راجستھان کے شہر شری گنگانگر میں پر تشدد واقعات میں بیس پولیس اہلکاروں سمیت پچاس افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بھی سکھ مذہب کے دو فرقوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
’نہانگ سنگھ‘ اور ’ڈیرا سچا سودا‘ نامی سکھ فرقوں کے درمیان تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ’ڈیرا سچا سودا‘ فرقے کے سربراہ گرمیت سنگھ رام رحیم کو ایک اشتہار میں سکھوں کے ’گرو‘ (امام) گروگوند سنگھ کی پوشاک میں دکھایا گيا تھا۔ بعد ازاں ’ڈیرا سچا سودا‘ کے مذہبی پیشوا بابا گرمیت سنگھ رام رحیم کے پتلے کو ’نہانگ سنگھ‘ فرقے کے افراد نے نذر آتش کر دیا۔
تنازعے کے پیش نظر سکھ مذہبی رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس امرتسر میں ہوا اور ’ڈیرا سچا سودا‘ سے تنازعے کو ختم کرنے کے لیے سکھ مذہب کی مختلف تنظیموں کی میٹنگ بدھ کو طلب کر لی گئی ہے۔
دوسری جانب ریاست کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے امن کی بحالی کی اپیل کی ہے اور ان واقعات کی تفتیش کے لیے بھٹنڈا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو مقرر کیا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ریاست پنجاب میں فروری میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے اور ’ڈیرا سچا سودا‘ نے عوام سے کانگریس کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی جس کے باعث اس کے زیر اثر علاقوں میں حکمراں جماعت اکالی دل بادل کے امیداروں کو شکست کا سامناکرنا پڑا تھا۔
’ڈیرا سچا سودا‘ کے حامیوں کا الزام ہے کہ حکومت اور انتظامیہ اس لیے ان کی مخالف ہوگئی ہے جبکہ اکالی رہنما ان الزمات کی تردید کرتے ہیں۔