Wednesday, 16 May, 2007, 14:56 GMT 19:56 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام،دلی
ہندوستان کی دارالحکومت دلی میں انسانی حقوق اور خواتین کی تنظیموں نےگجرات میں جعلی پولیس مقابلے یا فرضی انکاؤنٹر میں مارے جانے والے سہراب الدین کی بیوی کوثر بی کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ کوثر بی کے قتل کی بھی اعلی سطح پر تحقیقات کی جائیں اور مجرموں کو سزا دی جائے۔
’کوثر بی کی نذر انداز کیا جا رہا ہے‘ |
جماعت اسلامی ہند کے ترجمان این کے آفندی نے کہا کہ گجرات کے واقعے سے مسلم خواتین میں خوف ہراس پایا جاتا ہے اسی لیے خواتین مظاہرے کے لیے نکلی ہیں۔ ان کے بقول ’ کوثر بی اور عشرت جہاں اکیلی نہیں ہیں گجرات، کشمیر، مہاراشٹر، چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں بہت سی خواتین کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا ہے‘۔
دھرنے پر بیٹھی مریم فاطمہ کہتی ہیں: ’میرے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک نہ ہو، اس لیے مظاہرہ کرنے آئی ہوں، کوثر بی کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا اس سے تمام مسلم خواتین ڈری ہوئی ہیں‘۔
![]() | |
| مظاہرے میں شریک خواتین نے ایسے پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے جن کے ذریعے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا گیاتھا |
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ملک کے ذرائع ابلاغ نے جیسکا لال کے قتل پر ایک مہم چلائی تھی لیکن کوثر بی کے معاملے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ مسٹر الیاس کے مطابق ’یہ معاملہ اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ پولیس نے ایک بے گناہ کو مارا ہے‘۔
نومبر دو ہزار پانچ میں گجرات پولیس نے احمدآباد کے قریب سہراب الدین نامی ایک شخص کو لشکر طیبہ کا دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کردیا تھا۔
ثبوت مٹانے کے لیے پولیس نے چند روز بعد ان کی بیوی کو ثر بی کو بھی قتل کرکے لاش جلا دی تھی۔ اس واقعے کے ایک چشم دید گواہ تلسی رام پرجاپتی کو بھی پولیس نے واقعہ کے ایک برس بعد ایک اور جعلی مقابلے میں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔