Wednesday, 16 May, 2007, 12:08 GMT 17:08 PST
نارائین باریٹھ
جے پور
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی اسقاط حمل کے الزام میں اٹھائیس ڈاکٹروں کی پریکٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
راجستھان میڈیکل کونسل کے سینئر اہلکار سنجے شرما کا کہنا ہے کہ فیصلہ ایک تفتیش کے بعد کیا گیا ہے۔
ریاست میں سرگرم خواتین تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ پابندی کے باوجود بھی ڈاکٹر اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ ان کا مطالبہ کے ڈاکٹروں کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔
میڈیکل کونسل کے مطابق ڈاکٹروں پر پابندی آئندہ چھ ماہ تک جاری رہے گی۔
کونسل کا کہنا ہےاگر معاملے کی تفتیش مکمل ہونے میں زیادہ وقت لگا ہے تو پابندی کی معیاد بڑھائی جا سکتی ہے ۔
جن ڈاکٹروں پر الزامات ہیں ان میں سات سرکاری ہسپتالوں سے وابستہ ہیں۔
گزشتہ برس بھی میڈیکل کونسل نے اسی طرح کے الزامات کے تحت ڈاکٹروں پر پابندی عائد کی تھی۔
ڈاکٹروں پر الزام تھا کہ وہ جنسی شناخت کے بعد اسقاطِ حمل کرتے رہے تھے۔
اسی الزام کے تحت مزید بارہ ڈاکٹروں کے خلاف کونسل کی تحقیقات جاری ہیں۔
ممتاز خواتین کارکن کویتا سرواستوا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی دراصل ایک فریب ہے۔ ’ کارروائی کا عمل بہت سست ہے اور ہمارہ مطالبہ ہے کہ ان ڈاکٹروں کے لائسنس منسوخ کیے جائیں‘۔
الٹرا ساؤنڈ مشینوں سے جنس کا تعین |
گزشتہ سال ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل نے ریاست میں بچیوں کو رحم مادر میں مارنے میں ڈاکٹروں کے ملوث ہونے کی خبر نشر کی تھی۔ اس خبر کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کیا تھا اور اکیس ڈاکٹروں کے خلاف کیس درج کیے گئے۔
ریاست راجستھان میں مردوں کے مقابلے عورتوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی تکنیک کے سبب بچیوں کو پیدا ہونے سے قبل ہی قتل کیے جانے کے معاملات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
ہندوستان میں ہریانہ، بہار، پنجاب، دلی ایسی ریاستیں ہیں جہاں بچیوں کو پیدائش سے پہلے ہی مارنے کے معاملات عام ہوتے جا رہے ہیں اور اس کے سبب ان ریاستوں میں مردوں کی نسبت عورتوں کی تعداد روز بروز کم ہورہی ہے۔