Tuesday, 08 May, 2007, 07:05 GMT 12:05 PST
ریاست اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے کے لیے منگل کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ اس مرحلے میں نو اضلاع کے انسٹھ اسمبلی حلقوں کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔
ووٹنگ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ووٹنگ کے دوران ابھی تک صورت حال مجموعی طور پر پُرامن ہے لیکن ابتدائی مراحل میں پولنگ کی رفتار سست رہی ہے۔
اس مرحلے کی پولنگ میں مشرقی اترپردیش کے فیض آباد، امبیڈکر نگر، گورکھ پور، مہاراج گنج، کوشی نگر، دےوریا، مؤو، اعظم گڑھ اور بلیا اضلاع میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔
الیکشن کمیشن نے پرامن انتخابات کرانے کے لیے سینٹرل ریزرو پولیس فورسز کی چھ سو پچاس کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ انتخابات میں کسی بھی قسم کی گڑبڑ پر قابو پانے کے لیے نو میں سے پانچ اضلاع میں خصوصی مبصر بھی مقرر کیے گئے ہیں۔
انسٹھ نشستوں کے لیے نو سو چوتیس امیدوار میدان میں ہیں جن میں ایک سو باسٹھ کے خلاف جرائم کے مقدمات درج ہیں۔
کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی، حکمراں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی انتخابی میدان میں ہیں۔ اصل مقابلہ بہوجن سماج پارٹی، بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان ہے۔ ریاست میں کانگریس چوتھی اہم جماعت ہے۔
چھ مرحلوں پر محیط ’ایگزٹ پولز‘ کے مطابق کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت ملنے کی توقع کم ہے۔ اس صورت میں حکومت کی تشکیل میں چھوٹی جماعتوں کی اہمیت بڑھ جائے گی۔
ریاست میں پہلی بار کل چار سو تین اسمبلی حلقوں میں سات مرحلوں میں پولنگ ہو رہی ہے۔ ان نشستوں پر کل چھ ہزار چھیاسی امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ آزاد امیدوار ہیں۔ ساتوں مرحلوں کے ووٹوں کی گنتی گیارہ مئی کو ہوگی۔