Tuesday, 08 May, 2007, 17:38 GMT 22:38 PST
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ممتاز مصور ایم ایف حسین کے خلاف اتراکھنڈ کے شہر ہری دوار کے ایک عدالت کے تمام احکامات پر عملدرآمد روک دیا ہے۔
ممبئی پولیس نے ہری دوار کی مقامی عدالت کے حکم پر ایم ایف حسین کی رہائش گاہ پر ان کی جائیداد کی قرقی کا نوٹس چسپاں کر دیا تھا۔
ہری دوار کے ایک وکیل نے دو ہزار چھ میں ایم ایف حسین کے خلاف یہ شکایت درج کی تھی کہ انہوں نے اپنی بعض پینٹنگز میں ہندو دیوی دیوتاؤں کو برہنہ دکھا کر ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کیا ہے ۔
مفاد عامہ کی اس عرضی کی بنیاد پر ہری دوار کی عدالت نے ایم ایف حسین کے خلاف قرقی کا نوٹس ممبئي پولیس کو جاری کیا تھا۔ کیوں کہ عدالت کا کہنا تھا کہ کئی دفعہ سمن جاری کرنے کے بعد بھی حسین نے عدالت میں حاضری نہيں دی۔
ممبئی کے ’پوش‘ علاقے میں واقع جولی میکرز نامی عمارت میں ایک فلیٹ پر ممبئی پولیس نے پیر کو جو قرقی کا نوٹس چسپاں کیا تھا وہ فلیٹ ان کے بیٹے شفاعت حسین کا ہے۔
اکیانوے سالہ حسین اس وقت لندن میں ہیں اور ان کی طبیعت ناساز ہے۔ عام خیال ہے کہ وہ اپنے خلاف متعدد مقدموں سے تنگ آکر لندن چلے گئے تھے۔
حسین کی پینٹنگ کے خلاف ہندو قدامت پسند تنظیموں نے ملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔
ایم ایف حسین نے اپنی ضعیفی کے سبب عدالت سے اپیل کی تھی کہ ان کے تمام مقدمات کو دلی منتقل کر دیا جائے جسے سپریم کورٹ نے منظور کر لیا تھا اور انہیں عدالت میں حاضری سے بھی مستثنی قرار دے دیا تھا۔