Sunday, 06 May, 2007, 12:32 GMT 17:32 PST
ریاست گجرات میں حکومت نے ’جعلی پولیس مقابلوں‘ کے معاملے میں گرفتار گجرات کیڈر کے دو سینئر پولیس افسران کو معطل کر دیا ہے۔
ان دونوں پولیس افسران سمیت تین پولیس افسروں پر دو سال قبل ایک جعلی پولیس مقابلے میں ایک مسلم نوجوان کو قتل کرنے کا الزام ہے۔
اطلاعات کے مطابق سرحدی رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ڈی جے ونجارا اور خفیہ ادارے کے سپرٹنڈنٹ آف پولیس راج کمار پنڈیان کو سنیچر کو معطل کیا گیا۔
دونوں پولیس افسران کی معطلی کا عمل اس ضابطے کے تحت عمل میں آیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ جب کوئی پولیس اہلکار اڑتالیس گھنٹے سے زیادہ پولیس حراست میں رہتا ہے تو اسے معطل سمجھا جائے گا۔
ہفتے کے روز احمدآباد میں ایک ذیلی عدالت نےان گرفتار پولیس افسران کی حراست میں آٹھ مئی تک توسیع کر دی تھی۔ یاد رہے کہ ’جعلی پولیس مقابلوں‘ کے معاملے میں چند روز قبل تین پولیس افسران کوگجرات پولیس نے گرفتار کیا تھا۔جن میں ایک پولیس افسر کا تعلق راجستھان کیڈر سے ہے۔
گجرات سی آئی ڈی اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ سی آئی ڈی نے عدالت سے ان افسران کے نفسیاتی معائنے کی اجازت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت آٹھ مئی کو ہونا ہے۔
خیال رہے کہ ’جعلی پولیس مقابلے‘ کا یہ واقعہ نومبر دو ہزار پانچ کا ہے جس ميں سہراب الدین نامی ایک مسلم نوجوان کو لشکر طیبہ کا دہشتگرد قرار دے کر احمد آباد میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گيا تھا۔ ان کی ہلاکت کے چند روز بعد ان کی بیوی کوثر بی بی کو بھی ایک اور جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا جبکہ اس واقعہ کے بعد مقتول سہراب الدین کے ایک اور ساتھی تلسی رام پرجاپتی لاپتہ ہیں۔