
Sunday, 06 May, 2007, 10:04 GMT 15:04 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
لاپتہ غیرملکی، جج کا تبادلہ اور لوڈشیڈنگ
ہندوستان میں لاپتہ غیر ملکی
سنہ دو ہزار تین سے دو ہزار پانچ تک تین سال کے دوران ہندوستان آنے والے تقریباً ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی یہاں سے واپس نہيں گئے۔ وزرات داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے ایک لاکھ تیس ہزار شہری بنگلہ دیش، افغانستان، پاکستان اور سری لنکا کے ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان نہ واپس جانے والے شہریوں میں تقریباً دس ہزار ایسے ہیں جن کا تعلق امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جاپان، نیدر لینڈ، اٹلی، ناروے، اسرائیل ، جنوبی کوریا اور سنگاپور جیسے ترقی یافتہ ملکوں سے ہے۔ یہ سبھی لوگ جائز سیاحتی ویزا پر ملک میں آئے اور گوا، نینی تال، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے مختلف علاقوں میں تفریح کے لیےگئے۔
ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی واپس نہ جانے والوں میں سب سے زیادہ بہتر ہزار چار سو پندرہ بنگلہ دیش کے شہری ہیں۔ اس کے بعد چونتیس ہزار سات سو سڑسٹھ افغان شہری جبکہ اکیس ہزار تیس سو نواسی پاکستانی ویزے کے مدت ختم ہونے پر بھی بھارت میں قیام پذیر ہیں۔
صحت کے لیے بیداری
 | |
| ہری سبزیوں کے استعمال میں بارہ فیصد اضافہ ہوا ہے |
ہندوستان میں لوگوں میں ایسے کھانے کا رجحان بڑھا ہے جس سے صحت بہتر رہتی ہے۔ 94-1993 سے 05-2004 تک گيارہ برس کے دوران بیشتر لوگوں نے روایتی سرسوں اور ناریل کے تیل کے بجائے سورج مکھی، مکئی اور سویا کے تیل میں کھانا پکانا شروع کیا ہے۔ ’آئل سیمپل سروے آرگنائزیشن‘ کے مطابق بکرے کا گوشت کھانے کے رجحان میں چھ فی صد کی کمی آئی ہے جبکہ مرغی کے گوشت کے استعمال میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ ہری سبزیوں کے استعمال میں بارہ فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں انڈے کے استعمال میں ساٹھ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ ہمارے رہنما۔۔۔۔۔۔
 | |
| سابق وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ نے تقریبًا انیس لاکھ روپے ادا کرنے ہیں۔ |
کانگریس اور بی جے پی کے رہنماؤں سمیت سینکڑوں اہم شخصیات کے نام اس فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے انتہائی مہنگے علاقوں میں واقعہ سرکاری بنگلوں پر ناجائز طریقے سے قبضہ کر رکھا ہے اور کرائے کی مد میں کروڑوں روپے ادا نہیں کیے ہیں۔ نادہندگان میں کانگریس اور بی جے پی کے دفاتر بھی شامل ہیں۔ کانگریس نے تین اہم بنگلوں کے الاٹمنٹ کے لیے بقایا ایک کروڑو روپے سے زیادہ ادا نہیں کیے ہیں۔ بی جے پی کےصدر راج ناتھ سنگھ کے ذمے بنگلے کے لیے سترہ لاکھ روپے بقایا ہیں جبکہ سابق وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ نے تقریبًا انیس لاکھ روپے ادا کرنے ہیں۔
شہری ترقی کی وزرات کی جانب سے جاری کردہ نادہندگان کی اس فہرست میں سابق وزیراعظم نرسمہا راؤ کے خاندان اور مستند سرکردہ صحافیوں کے نام بھی شامل ہیں جبکہ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ان سبھی سے بقایاجات سود سمیت وصول کیے جائیں۔
بوسہ مخالف جج کا تبادلہ
 | |
| رچرڈ گیئر شلپا شیٹی کو بوسہ دیتے ہوئے |
راجستھان ہائی کورٹ نے چیف جوڈیشل کورٹ اور جے پور جوڈیشل مجسٹریٹ دنیش گپتا کا تبادلہ کر دیا ہے۔ مسٹرگپتا نے مفاد عامہ کی ایک درخواست پر بالی ووڈ اداکارہ شلپا شیٹی کو ایک پروگرام میں سرِ عام بوسہ لینے کے معاملے میں ہالی وڈ اداکار رچرڈ گیئر کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا تھا۔
جج کے اس فیصلے پر ملک کے کئی سرکردہ ماہرین اور اہم شخصیات نے سخت نکتہ چينی کی تھی اور اسے عدالتی بے ہودگی سے تعبیر کیا تھا۔ سابق اٹارنی جنرل سولی سہراب جی نے کہا تھا مجسٹریٹ نے طالبان کی اخلاقی پولیس کی طرح پیش آنا شروع کر دیا ہے۔
بجلی کی شدید قلت
 | |
| بھارت میں بجلی کی کمی پورا کرنے کے لیے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے |
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ستر ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی ہے۔وزیرِ بجلی نےگزشتہ دنوں پارلمینٹ میں بتایا کہ بجلی کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بجلی کی قلت کا یہ عالم ہے کہ دلی اور ممبئی جیسے شہروں میں لوڈشیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے۔ وزیر کا کہنا تھا کہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ڈیڑھ لاکھ میگا واٹ ہے لیکن اب تک اس سے صرف بیس فیصد ہی استفادہ کیا جا سکا ہے۔