Friday, 04 May, 2007, 09:35 GMT 14:35 PST
سبیر بھومک
بی بی سی، آسام
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ایک بم دھماکے میں کم از کم پندرہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں چار کی حالت نازک ہے۔
پولیس کے مطابق یہ بم دھماکہ ریاست کے تنسکیا علاقے میں جمعہ کی صج ایک چائے کی دکان میں ہوا ہے۔
گزشتہ روز یعنی جمعرات کو آسام کے دارالحکومت گوہاٹی میں بھی ایک گودام میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔
آسام میں پولیس کے سربراہ آر این ماتھر نے ان دونوں حملوں کے لیے علیحدگی پسند تنظیم یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام یعنی الفا کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
مسٹر ماتھر نے بتایا ہے کہ جمعہ کے روز ہونے والے حملے میں زخمی ہونے والے بیشتر ہندی بولنے والے افراد ہیں۔ الفا نے دوسری ریاستوں سے آنے والے افراد کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
گزشتہ ایک برس میں آسام میں تشدد کے مختلف واقعات میں دوسری ریاستوں سے آئے کم از کم اسی افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
![]() | |
| آسام میں زیادہ تر باہر سے آنے والے مہاجروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے |
گزشتہ ایک ماہ میں تصادم کے دوران الفا کے تیس سے زائد کارکن ہلاک ہوچکے ہیں جس میں الفا کے بعض کمانڈرز بھی شامل ہیں۔
جمعرات کے روز فوج کے ساتھ ایک جھڑپ میں الفا کے تین کارکن ہلاک ہوگئے تھے اور ایک اعلی کمانڈو کو گوہاٹی میں گرفتار کیا گیا تھا۔
گزشتہ ایک برس سے حکومت نے الفا کے خلاف آپریشن تیز کردیا ہے اور اسی کے سبب الفا نے بھی اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
گزشتہ برس ستمبر میں بھارتی حکومت اور الفا باغیوں کے درمیان مذاکرات ٹوٹ گۓ تھے۔ باغیوں کا یہ مطالبہ تھا کہ بات چیت کا بنیادی موضوع آسام کی خودمختاری ہو۔ جبکہ حکومت کا اصرار تھا کہ الفا جنگ بندی کا اعلان کرے اور تشدد کا راستہ چھوڑ دے۔