http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 02 May, 2007, 14:32 GMT 19:32 PST

ریاض مسرور
بی بی سی اُردوڈاٹ کام، سرینگر

’دلّی نے اقتدار کا لالچ دیا تھا‘

ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے اعتدال پسندگروپ حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت ہند نے انہیں اقتدار کا لالچ دیا تھا اور جب بات نہیں بنی تو ان پر دباؤ بھی ڈالاگیا۔

وہ شام کے دارالحکومت دمشق کے تعلیمی دورے سے واپسی پر جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ علاقے میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔

میر واعظ عمر نے آئندہ انتخابات میں حریت کی شمولیت کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی جیسی ہندنواز پارٹیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے میر واعظ کا کہنا تھا:’ہم الیکشن تب تک نہیں لڑیں گے جب تک مسئلہ کشمیر مکمل طور حل نہیں ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے کشمیر نواز بیانات میں صداقت ہے تو انہیں بھی مسئلہ کشمیر کے حل تک الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کرنا چاہیے۔

میرواعظ نے ہندوستان کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے حریت کو ’غیر رسمی‘ چینلوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے مکمل حل کے مطالبہ سے دستبرداری پر اقتدار کی پیشکش کی تھی۔

 پورا جموں و کشمیر یہاں کے لوگوں کا ہے۔ ہم اپنے ہی وطن میں بے وطن ہو کر رہ گئے تھے۔ امن کے عمل کے بعد بس سروس ممکن ہوئی۔ اب پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس راستہ پر کشمیریوں کے سفر میں دونوں ملکوں کی وزارتِ خارجہ کا عمل دخل نہیں ہوگا
 
میر واعظ عمر فاروق

ان کا کہنا تھا: ’جب لالچ سے بات نہیں بنی تو مختلف قسم کے حربوں سے ہم پر دباؤ ڈالا گیا، لیکن ہم نے اس کاز کی حمایت کے لیے قربانیاں دی ہیں اور جب تک ان قربانیوں کا مقصد پورا نہیں ہوتا، ہماری پرامن سیاسی جدوجہد جاری رہے گی‘۔

میرواعظ نے انکشاف کیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرینگر۔ مظفرآباد بس سروس کے لوازمات کو آسان بنانے کے لیے ایک نئے میکانزم پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق اس میکانزم میں مقامی ڈپٹی کمشنروں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ خواہش مند مسافروں کی جانچ کرکے انہیں پرمٹ مہیا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عنقریب اس راستہ پر سفر کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا: ’پورا جموں و کشمیر یہاں کے لوگوں کا ہے۔ ہم اپنے ہی وطن میں بے وطن ہو کر رہ گئے تھے۔ امن عمل کے بعد یہ بس سروس ممکن ہوئی اور اب پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس راستہ پر کشمیریوں کے سفر میں دونوں ملکوں کی وزارتِ خارجہ کا عمل دخل نہیں ہوگا‘۔