Wednesday, 25 April, 2007, 08:57 GMT 13:57 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ راہول گاندھی کو پاکستان کی تقسیم کے حوالے سے اپنے متنازعہ بیان کی وضاحت کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کانگریس کے رکنِ پارلیمان کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے کیوں آیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان حالات سازگار ہو رہے ہیں۔
مولانا فصل الرحمن جمعیت علماء ہند کے بانی مولانا اسعد مدنی پر منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں شرکت کے لیے بھارت کے دورے پر ہیں۔
دلی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راہول کے بیان سے پاکستان میں تشویش پھیلی ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان حالات بہتر ہو رہے ہیں اور اس طرح کے بیانات سے اعتماد سازی کی رفتار سست روی کا شکار ہوسکتی ہے۔ اس لیے مناسب ہوگا کہ وہ خود اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کریں۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے چند چھوٹی چھوٹی بنیاد پرست تنظیمیں ذمہ دار ہیں لیکن معاشرے میں ان کا اثر برائے نام ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا صدر پرویز مشرف کی بعض پالیسز سے وہ قطعی متفق نہیں ہیں۔ ان کے مطابق نام نہاد دہشت گردی کے نام پر جو جنگ چھیڑی گئی ہے اور اس پر جو عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے وہ خطے کے مفاد میں نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’ہمیں ان کی پالیسیز سے سخت اختلاف ہے۔ مغربی ممالک کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے یہ سب کیا جارہا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ کہیں یہ کارروائیاں اشتعال اور ردِ عمل تو نہیں ابھار رہی ہیں اور انتہا پسندی کو تو دعوت نہیں دے رہی ہیں‘۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان واپسی کے بعد وہ حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں سے صلاح مشورہ کریں گے کہ کس طرح صدر پرویز مشرف کو غیر آئینی عمل سے روکا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا: ’یہ تمام سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ صدر کے انتخاب کے لیے جو بھی کچھ کیا جارہا ہے وہ اسے روکنے کی کوشش کریں‘۔