http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 23 April, 2007, 11:48 GMT 16:48 PST

ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام سرینگر

گیلانی کے خلاف پولیس کیس

ہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیرمیں مقامی پولیس نے معمرعلیٰحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے خلاف مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے’قوم دشمن جذبات‘ کو ہوا دی۔

ممبئی میں واحد گردے کا کامیاب آپریشن کرانے کے بعد مسٹر گیلانی بائیس اپریل کو لوٹے سرینگر کی مرکزی عیدگاہ میں واقع مزارشہداء پر بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ مسٹر گیلانی کی ریلی میں ممنوعہ جنگجو تنظیموں لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے حق میں نعرے بلند کیےگئے۔ اس کے علاوہ ریلی میں بعض نقاب پوش نوجوان لشکر ِطیبہ کے پرچم کے ساتھ دیکھے گئے۔ جس کے بعد کچھ بھارتی ٹی وی چینلوں نے یہ خبر دی کہ ریلی میں مسلح جنگجو بھی موجود تھے۔

تاہم پولیس کے ایک ترجمان نے بعد میں نامہ نگاروں کو بتایا ’غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون کی دفعہ تیرہ کے تحت گیلانی اور ان کے کچھ ساتھیوں کے خلاف کیس رجسٹرڈ کیا گیا ہے لیکن ریلی میں ہتھیاروں کی نمائش کے شواہد نہیں ملے ہیں‘۔

سید علی شاہ گیلانی کے حامیوں میں شامل بعض نوجوانوں نے ریلی کے دوران پاکستان، جنگجو تنظیموں اور اسلام و آزادی کے حق میں اور ہندوستان کے خلاف زوردار نعرے بازی کی۔

ٹی وی چینلوں پر گیلانی کی ریلی میں جنگجوؤں کی موجودگی کی خبر متواتر نشر ہونے سے نئی دلّی کے سیاسی حلقوں میں بھی کھلبلی مچ گئی اور بی جے پی نے ہندوستانی وزیراعظم پر الزام عائد کیا کہ وہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف ’نرم پالیسی‘ پر عمل پیرا ہیں۔

سیدعلی گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی طرف سے ان کے خلاف ایف آئی آر حکومت کی مجبوری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تو پچھلے بیس سال سے یہ نعرے دے رہے ہیں۔ یہ توکوئی نئی بات نہیں ہے۔ حکومت کے اپنے مسائل ہیں اور اسے حکم نامہ دلّی سےموصول ہوا ہے‘۔