Sunday, 22 April, 2007, 13:45 GMT 18:45 PST
خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
حال ہی میں ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک بیان میں کہا ہے حکومت چاہتی ہے کہ مسلمان بچے اردو میں تعلیم حاصل کریں اور حکومت اس سلسلے میں تمام اخراجات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
ملک کے بیشتر مسلمانوں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو اردو میں تعلیم نہیں انہیں سماجی اور اقتصادی ترقی میں برابری کی حصہ داری چاہیۓ۔
رپورٹ کے بعد اردو سکول کھولنے کی تجویز کا یہ دوسرا موقع ہے جب حکومت نے مسلمانوں کو اردو میں تعلیم دینے کی بات پر زور دیا ہے۔
بہار سے تعلق رکھنے والے طالب علم افروز عالم ساحل کا کہنا ہے: ’حکومت مسلمانوں کو معاشرے میں الگ تھلگ کرنے کے لیے اردو زبان پر اتنا زور دے رہی ہے۔حکومت اگر اردو کے علاوہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے جائزے پر دھیان ڈالے تو مسلمانوں کی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔‘
دلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کی طالبہ رباب خان کا کہنا ہے:’ حکومت ہندوستان کے مسلمانوں کو زبان جیسے غیر ضروری معاملات میں الجھائے رکھنا چاہتی ہے تاکہ وہ ترقی نہ کرسکیں۔‘
بیشتر مسلم والدین اور طلباء سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ ان میں سے ایک بھی اردو میں تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اردو میں تعلیم کا مطلب بین الاقوامی سطح پر پچھڑ جانا ہے۔
محمد امتیاز کا کہنا ہے کہ آج ملک ایک ایسے دور سےگزر رہا ہے جہاں مسلمانوں کے ووٹ پانے کے لیے سیاسی جماعتیں مذہب کے نام پر سیاست کر رہے ہیں لیکن مسلمانوں کی ترقی کے لیے کی جانے والی تجویز نہایت ہی ’رگریسو‘ ہیں۔
بائیں بازوں کی جماعت مارکسیسٹ کمیونسٹ پارٹی کے سرکردہ لیڈر محمد سلیم کا کہنا ہے: ’ہمارے ملک کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ آزادی کے بعد اردو ادب اور اردو زبان کو در کنار کیا گیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے اردو اسکول کھولے جائیں۔ ہمارے ملک میں مسلمان مختلف ریاستوں میں رہتے ہیں اور وہ سب اردو نہیں بولتے ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں صرف وہ غریب مسلمان جن کی مادری زبان اردو ہے ان کے لیے اردو اسکول کھولے جائیں۔‘
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں مدرسوں (جہاں تعلیم کا ذریعہ بیشتر جگہوں پر اردو ہے) اور اردو سکول کی حالت پہلے ہی بری ہے۔مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ مقابلہ نہیں کر پاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ مدرسوں میں پڑھانے کے لیے مجبور ہوتے ہیں اور اس سے ان کی پسماندگی برقرار رہتی ہے۔
اس لیےاگر حکومت مسلمانوں کو ملک کی ترقی میں حصہ دار بنانا چاہتی ہے جسیا کہ وزیراعظم پہلے کہ چکے ہیں، تو انہیں عالمی درجے کی تعلیم اور نوکریاں دینا حکومت کی پہلی ترجیج ہونی چاہیے نہ کہ انہيں زبان کے فروغ کے نام پر مزید پسماندہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔