Sunday, 22 April, 2007, 13:33 GMT 18:33 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
امیتابھ بچن نے اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب کے دوران صحافیوں کے ساتھ ہوئي بدسلوکی کے لئے معافی مانگ لی ہے۔ انہوں نے اتوار کے روز اپنے بنگلہ پر صحافیوں کو بلایا اور کہا کہ شادی کے موقع پر جو بھی واقعہ ہوا ہے اس کا انہیں بہت افسوس ہے۔
مذکورہ واقعہ سنیچر کو اس وقت پیش آیا تھا جب ایشوریہ رائے اپنے گھر سے رخصت ہوکر ’پرتیکشا‘ پہنچ رہی تھیں۔ پھولوں سے سجی بی ایم ڈبلیو کار کو امیتابھ بچن ڈرائیو کر رہے تھے، سامنے کی سیٹ پر امر سنگھ تھے اور پیچھے کی سیٹ پر ابھیشیک اور ایشوریہ بچن تھیں۔
کچھ فوٹو جرنلسٹوں نے کار کی تصویر کھینچنے کی کوشش کی تو بلیک کمانڈوز نے انہیں رائفل کے بٹ اور ٹھوکریں ماریں۔ ڈی این اے اخبار کے فوٹوگرافر بی ایل سونی بے ہوش ہوگۓ تھے۔
اس کے بعد دیگر صحافیوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔
اتوار کو امیتابھ بچن نے کہا کہ وہ سیکورٹی گارڈز ان کے نہیں تھے۔ وہ امر سنگھ کی زیڈ سیکوریٹی کے بلیک کمانڈوز تھے اس لیے وہ نہیں جانتے کہ ان کا کیا طریقۂ کار ہے۔ امیتابھ نے اس کی وضاحت کی کہ سنیچر کے روز ’امر سنگھ کی طبیعت خراب ہوگئی تھی، گھر پر ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا اور اس لیے ہم سب جلدی میں تھے، ایسے میں سڑک میں ٹریفک جام ہوگیا تھا۔‘
امیتابھ نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بیٹے کی شادی ان کا نجی معاملہ تھا اس لئے انہوں نے میڈیا کو مدعو نہیں کیا تھا لیکن ساتھ ہی کہا کہ وہ جلد ہی ابھیشیک اور ان کی بہو ایشوریہ رائے کی شادی کی تصاویر تمام میڈیا کو دیں گے۔
صحافیوں سے بدسلوکی کے معاملے میں پولیس نے ایک کیس درج کر لیا تھا لیکن رات دیر تک صحافی بنگلے کے سامنے دھرنے پر بیٹھے رہے وہ امیتابھ بچن سے معافی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
گزشتہ رات کے واقعہ کے بعد صرف دو چینلز کے تمام میڈیا نے اس کے بعد کی سرگرمیوں کی کوریج کے لیے بائیکاٹ کیا تھا۔