Saturday, 21 April, 2007, 11:37 GMT 16:37 PST
بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں ہماری مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کو پارہ پارہ کر رہی ہیں۔
سنیچر کو دلی میں ’انٹر فیتھ ہارمونی فاؤنڈیشن ‘ کے زیر اہتمام ایک دو روزہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔ ’ کوئی بھی سیاسی تنظیم اگر مذہب کے نام پر، چاہے وہ کوئی بھی مذہب ہو، لوگوں کو بر انگیختہ کرتی ہے تو یہ مذہب اور آئین دونوں کے ساتھ دھوکہ دہی ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے آئین کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ تمام مذاہب کو برابر کا درجہ حاصل ہے۔’جب ہم کہتے ہیں کہ ہمار آئین سیکولر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کو سیاست اور حکومت سے الگ رکھا جائے۔‘ مسٹر سنگھ کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ افسوس کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ سیاسی مفاد کے لیے رواداری کا دامن چھوڑ دیا جائے۔
منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ دنیا بھارت کو اس کی گنگا جمنی تہذیب کے لیے جانتی ہے اور یہی اس ملک کی بنیاد بھی ہے۔’ ہم نے نہ صرف یہ سیکھا ہے کہ ’جیو اور جینے دو‘ بلکہ مل جُل کر رہنا اور پروان چڑھنا بھی سیکھا ہے۔‘ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جیسے ہم اپنے ذاتی مذہب پر عمل کرتے ہیں ویسے ہی دوسرے مذہب کی عزت کرتے ہیں۔
’انٹر فیتھ ہارمونی فاؤنڈیشن‘ اور انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز کے زیراہتمام اس دو روزہ اجلاس میں سارک سمیت نو ممالک کے سیاسی رہنما، وزراء اور دانشور حصہ لے رہے ہیں اور اس کی صدارت مشہور سفارتکار اور مصنف کرن سنگھ کر رہے ہیں۔
کرن سنگھ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں آج کل مذہب کا کھلے عام غلط استعمال ہورہا ہے۔
پاکستان میں اطلاعات ونشریات کے وزیر سید علی درّانی اور تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خان بھی اس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ امریکہ کے بعص دانشور بھی اس میں حصہ لینے کے لیے دلی پہنچے ہیں۔