Sunday, 15 April, 2007, 11:22 GMT 16:22 PST
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہےکہ مرکزی حکومت مسلمانوں کے لیے اردو میں تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ اقلیتوں کی فلاح ممکن ہوسکے۔
مسٹر سنگھ نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو مسلمان بچے اردو میں تعلیم حاصل کریں اور ہماری حکومت اس سلسلے تمام اخراجات کو اٹھانے کے لیے تیار ہے‘۔
انکا کہنا تھا ’مسلمانوں کی زبوں حالی کی روداد اعلی سطح کی سچر کمیٹی کی رپورٹ سے سامنے آچکی ہے اور مسلمانوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے ترقی پسند اتحاد نے بہت سے اقدام اٹھائے ہیں اور پندرہ نکاتی پروگرام کا نفاذ کرنا اسی کڑی میں شامل ہے‘۔
پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت پسماندہ علاقوں میں زیادہ سے زيادہ سکولز، اگن باڑی (خواتین و بچوں کے لیےامدادی تعلیمی مراکز) اور ہسپتال کھولنا شامل ہے۔
مسلمانوں کے لیے یکساں مواقع |
ان کا کہنا تھا کہ حکومت مسلمانوں کو بینک سے قرضے بھی فراہم کرائے گی۔ خیال رہے کہ ملک میں مسلمانوں کو بینک سے قرضے با آسانی نہيں ملتے ہیں۔
ریاست اترپردیش میں مسلانوں کی بہت بڑی تعداد ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کو ووٹ بینک تصور کیا جاتا ہے اور وزیراعظم کا تازہ بیان بھی مسلمانوں کو راغب کرنے کی کوشش ہے لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ وزیراعظم کے تازہ بیان سے سخت گیر ہندو سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر مرکزی حکومت پراقلیت نوازی کا الزم لگانے کا موقع ملے گا۔