Friday, 13 April, 2007, 12:34 GMT 17:34 PST
راجیو کھنہ
گجرات، انڈیا
اسٹیون لوئیس کاپر کا تعلق برطانیہ سے ہے اور وہ ایک ہجڑے ہیں۔ لیکن گجرات میں انہیں ایک دیوی کے روپ میں پوجا جارہا ہے۔ انکے دیدار کے لیے عقیدت مندوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہے۔
اسٹیون لوئیس کاپر گجرات کے بیچارہ جی علاقے میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کو اپنی طرف راغب کررہے ہیں۔
گجرات کے اس علاقے میں ہیجڑوں کی دیوی مانی جانے والی باہوچار ماتا کا ایک مشہور مندر ہے اور ان دنوں اس مندر میں اسٹیون لوئیس کو لوگ دیوی کے ایک روپ کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اسٹیون کو عقیدت مند ماں کہہ کر پکار رہے ہیں۔
اسٹیون کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہیجڑے ہیں اور انہیں ساڑھی پہننا پسند ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں ایک عورت کے طور پر پہچانیں۔
گجرات میں اسٹیون کو ایک نیا نام بھی مل گیا ہے۔ لوگ انہیں اب پیما کے نام سے پکار رہے ہیں۔ پیما کا مطلب ہوتا ہے کنول کا پھول۔
اسٹیون کا کہنا ہے کہ ان کے ویزا کی معیاد چھ مہینے بعد ختم ہوجائیگی لیکن اسکے بعد بھی وہ ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں۔
اسٹیون کا کہنا ہے کہ وہ اپنی باقی زندگی ہندوستان میں گذارنا چاہتے ہیں۔
لیکن انہیں اپنے بوائے فرینڈ کی بہت یاد آتی ہے جو برطانیہ میں ہے۔
مندر کے ٹرسٹی پی سی راول نے بتایا کہ اس مندر میں ہر برس بڑی تعداد میں ہیجڑے دیوی کے دیدار کے لیے آتے ہیں ۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اس مندر میں آنے سے ہیجڑے اگلے جنم میں ہیجڑے کے روپ میں پیدا نہیں ہوتے ہیں۔
اسٹیون کا کہنا ہے کہ انہوں نے گجراتی زبان کے کچھ الفاظ سیکھ لیے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ گجراتی اور سنسکرت زبان پوری طرح سے سیکھ لیں۔