Tuesday, 10 April, 2007, 16:52 GMT 21:52 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
ایک ہی سکول کے تین درجن بچوں کی ولدیت کے خانے میں اگر ایک ہی نام ہو تو ہر کوئی حیرت میں پڑ سکتا ہے۔ بہار کے شمالی شہر سہسرام کے ایک گاؤں کے سکول میں پینتیس بچوں کے والد کا ایک ہی نام لکھایا گیا ہے: روپی چند۔
’روپی چند’ کا یہ خاندان سہسرام شہر سے متصل مقامی گاؤں بیدا کی سیکس ورکر خواتین کے بچوں پر مشتمل ہے۔
مقامی پولیس نے ان بچوں کواس مہم کے تحت سکول میں داخل کرایا ہے جو دارالحکومت پٹنہ سمیت پوری ریاست کی پولیس سکول سے محروم رہ جانے والے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے چلا رہی ہے۔
ریاستی پولیس کے ڈی جی پی اشیش رنجن سنہا نے اس معاملے کی تفتیش کرانے کا حکم دیا ہے کہ آخر پینتیس بچوں کے والد کا ایک ہی نام کیسے لکھا گیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ ہے کہ بچے سکول جا رہے ہیں۔
سہسرام مفصل تھانے کے انچارج منورنجن بھارتی نے ہمیں بتایا کہ مذکورہ گاؤں کے جن پچاس بچوں کا داخلہ کرایا گیا ہے ان میں سے پینتیس کے والد کا نام ان کی ماؤں نے ’روپی چند’ لکھایا ہے۔
منورنجن بھارتی نے کہا کہ ریڈ لائٹ علاقے میں بچوں کے باپ کا نام معلوم نہ ہونا عام بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن پینتیس بچوں کے والد کا نام ایک ہے ان کے والد کی جگہ والدہ کا نام درج کرایا جائے گا۔
اتنی تفصیل کے باوجود ’روپی چند’ نامی شخص کا پتہ اس لیے نہیں چل پایا کیونکہ یہ نام فرضی ہے۔
سہسرام شہر ویسے تو اس لیے مشہور ہے کہ یہاں مشہور بادشاہ شیرشاہ سوری کا مقبرہ ہے لیکن شہر سے گذرنے والی جی ٹی روڈ کی دونوں جانب جسم فروشی عام ہے۔
تھانے دار منورنجن بھارتی کہتے ہیں کہ بازار حسن سے بچوں کو سکول پہنچانا اور ان کے تعلیمی اخراجات خاصا مہنگا کام ہے۔ ان کے مطابق فی الحال وہ ان بچوں کے لیے یونیفارم اور رکشے وغیرے کے انتظام کے لیے مقامی تا جروں سے مالی مدد لے رہے ہیں۔