Tuesday, 10 April, 2007, 09:55 GMT 14:55 PST
ہندوستان میں سرکاری سطح پر کروائے جانے والے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ ہر تین میں سے دو بچے جسمانی زيادتی کا شکار ہوتے ہیں۔
وزراتِ فلاح و بہبود برائے اطفال کے ذریعہ کرائی گئی اس تحقیق میں حصہ لینے والوں بچوں میں سے ترپن فیصد نے بتایا کہ وہ کسی نہ کسی قسم کی جنسی زیادتی کا شکار ہوئے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب سرکاری سطح پر ہندوستان میں بچوں کے ساتھ جنسی و جسمانی استحصال کے بار ے میں تحقیق کروائی گئی ہے۔
ہندوستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور خصوصی طور پر جنسی زیادتی کی شکایتیں بہت کم درج کرائی جاتی ہیں۔ اس تحقیق کو جاری کرتے ہوئے فلاح و بہبود برائے اطفال اور خواتین کی وزیر رینو کا چودھری نے کہا: ’ہندوستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسوں کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا اور ہم عام طور پر یہی کہتے ہیں کہ ایسے کیس تو ہوتے ہی نہیں ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا:’ خاموش رہ کر ہم لوگوں نے اس طرح کی جنسی زیادتیوں کے رجحان کو ہوا دی ہے‘۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی جنسی زیادتی کے معاملے پر خاموشی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں بچوں کے استحصال کے کیسوں کو سماجی کارکن وقتاً فوقتاً اٹھاتے رہے ہیں لیکن پہلی بار ہے کہ حکومت نے بڑے پیمانے پر بچوں کے ساتھ زیادتی کا احاطہ کیا ہے۔
![]() | |
| ہندوستان میں دنیا کے انیس فیصد بچے رہتے ہیں |
لولین ککڑ کا کہنا ہےکہ اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف لڑکیاں ہی نہں بلکہ لڑکے بھی جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ زیادتی وہ لوگ کرتے ہیں جو بچوں کے قریبی یا بچے کے نگراں ہوتے ہیں۔ ان میں قریبی رشتے دار،نگران اور سکول کے ٹیچر بھی شامل ہیں۔
لولین ککڑ نے بتایا کہ یہ انکشاف پریشان کن ہے کیونکہ ستر فیصد کیسوں کی شکایت نہیں کی جاتی ہے۔ تحقیق میں جنسی زیاتی کے ساتھ جذباتی استحصال اور لڑکیوں کے ساتھ تفریق بھی شامل ہے۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ اس طرح کی تحقیق وقت کی اولین ضرورت ہے۔ پلان انٹر نیشنل کے ڈائریکٹر رولانڈ اینجیرر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بہت اہم ہے کہ حکومت نے اسے ایک مسئلہ کےطور پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
![]() |
ان کا کہنا تھا کہ والدین اور بڑوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کے بھی حقوق ہیں اوروہ ان کی ’ملکیت‘ نہیں ہیں۔ ہندوستان میں والدین بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا اعتراف کرنے میں تامل سےکام لیتے ہیں اور زیادتی میں خاندان کے کسی رکن کے ملوث ہونے پر اسے بالکل ہی دبا دیا جاتا ہے۔
تحقیق میں شامل پچاس فیصد سے زائد بچوں نے بتایا کہ یہ گھر کا معاملہ ہے اوراسےگھر میں ہی رہنے دیا جائے۔ صرف سترہ فیصد بچوں نے کہا کہ زیادتی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔
ہندوستان میں دنیا کے انیس فیصد بچے رہتے ہیں اور اس وقت ملک کی آبادی کا ایک تہائی حصہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل ہے۔