Thursday, 05 April, 2007, 21:06 GMT 02:06 PST
فضل شہاب
لکھنؤ
بھارت کی ریاست اترپردیش میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ اترپردیش میں مسلمان اقلیت نہیں ہیں اور مرکزی حکومت کو قانون میں ترمیم کرنی چاہیے۔
عدالت نے یہ فیصلہ غازی پور ضلع کے ایک مدرسہ ’انجمن دہرہ کلاں‘ کی ایک عرضی پر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کئی اقلیتی مدرسوں کو سرکاری گرانٹ رشوت لے کر دی گئی ہے اور ان کی درخواست کو سرکاری اہلکاروں نے رشوت نہ ملنے پر نا منظور کردیا ہے۔
عدالت نے اس شکایت کی تحقیقات کی ہدایت حکومت اترپردیش کو دی اور ساتھ ہی مرکزی حکومت کو 1993 کے اس حکم نامے کو درست کرنے کی ہدایت دی ہے جس کے تحت مسلم اداروں کو اقلیتی درجہ دیا جاتا ہے۔
ہائی کورٹ کے فیصلے پر مسلم دانشوروں نے حیرانی کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں ہی نظر ثانی کی اپیل داخل کرے۔
مسلم دانشور اور ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل ظفر یاب جیلانی نے اپنے ردعمل میں کہا ہےکہ بینچ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف ہے۔ 12 گست 2005 میں سپریم کورٹ نے پی ایم انعام دار کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ کسی ریاست ميں وہ مذہبی کمیونٹی اقلیت شمار ہوں گی جن کی آبادی پچاس فیصد سے کم ہے۔اور اس سلسلے میں نہ ضلع کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی پورے ملک کو بلکہ ریاست بنیاد ہوگی۔
ظفر یاب جیلانی نے مزید کہا کہ اس لیے کشمیر میں ہندو اقلیت میں ہیں اور پنجاب میں سکھ اکثریت قرار دیۓ گئے ہیں۔ شیعہ رہنما مولانا کلب صادق جواد نے کہا ’یہ فیصلہ افسوسناک ہے اور اس کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔