http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 04 April, 2007, 07:02 GMT 12:02 PST

سر کریک، سیاچن پر بات چیت

پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے دلی میں ملاقات کے دوران کشمیر، سیاچن اور سر کریک سمیت دیگر معاملات پر دو طرفہ بات چیت کی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے وزارئے اعظم کے درمیان یہ ملاقات جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کی سربراہ کانفرنس کے آخری دن ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز اور ان کے بھارتی ہم منصب نےدونوں ملکوں کے درمیان جاری امن مذاکرات کا جائزہ لیا ہے۔

سارک کو فعال بنانا ہو گا: شوکت عزیز

سارک کانفرنس کے آخری دن رکن ممالک کے سربراہان اور حکام آپس میں ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ کانفرنس کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان بعض امور پر اختلافات کی خبریں ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق اعلامیہ میں تجارتی روابط کو فروغ دینے، دہشت گردی سے نمٹنے اور روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے نام ظاہر کیے بغیر ایک بھارتی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اعلامیہ کے متن پر صلاح و مشورہ جاری ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ مشترکہ اعلامیہ میں دہشت گردی سے نمٹنے پر زور دیا جائےگا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق سینئر سفارت کاروں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات ہیں۔

 یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول تیار کریں جو پر امن ہو، ترقی اور خوشحالی کا ضامن، بھوک اور بیماریوں سے آزاد ایک ایسی زندگی کا عکاس ہو جہاں لوگوں کی امیدیں پروان چڑھیں
 
شوکت عزیز

گزشتہ روز پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے مدیروں سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ سارک کے رکن ممالک میں اعتماد کی کمی ہے اس لیے یہ تنظیم مؤثر ثابت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ اب وقت آکیا ہے کہ اعلانات سے زیادہ کام پر توجہ دی جائے۔

پاکستان نے کشمیر کے مسئلے پر بھی زور دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ پوری طرح سے تجارتی روابط کا فروغ تب ہی ممکن ہے جب کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل حل کر لیے جائیں۔

اجلاس کے پہلے دن بیشتر قائدین نے اس بات پر زور دیا تھا کہ خطے میں سکیورٹی کے مسائل پر توجہ دیے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہے۔

چودہویں سارک سربراہی کانفرنس میں چین، جاپان، جنوبی کوریا، امریکہ اور یورپی یونین کے نمائندے بطور مبصر شریک ہوئے ہیں۔ لیکن ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ سارک کانفرنس میں جن امور پر کام کرنے پر اتفاق ہوا ہے ان کا نفاذ بہتر طور پر نہیں ہو پایا ہے۔