Monday, 02 April, 2007, 09:47 GMT 14:47 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
نیپال کی حکومت میں ماؤ نواز تحریک کے ارکان کی شمولیت سے باالخصوص شمالی بہار کے حکام ریاست میں نکسلی تشدد میں اضافے کا خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔
بہار کی شمالی سرحد پر واقع کئی اضلاع کی سرحدیں نیپال سے ملتی ہیں اور ان علاقوں میں عام طور پر سکیورٹی کے خاص انتظامات نہیں کیے جاتے۔
ترہُت رینج کے ڈی آئی جی گپتیشور پانڈے کے مطابق نیپال اور ہندوستان کے ماؤ نواز باغی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ حکومت میں شامل ہونے کے بعد شمالی بہار میں نکسلی تحریک تیز ہوگی۔ ان کے مطابق سرحد کے کھلے ہونے کی وجہ سے نکسلیوں کے لیے اپنی کارروائی کے بعد چھپ جانا آسان ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سنیچر کو سیکڑوں نکسلیوں نے سیتامڑھی ضلع کے ریگا بلاک پر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے کے بعد کچھ دیر کے لیے علاقہ ماؤ نواز باغیوں کے قبضے میں آ گیا تھا۔
باغی تحریک کا مرکز |
ڈی آئی جی گپتیشور پانڈے کا کہنا کہ نکسلی بینک لوٹ کر اسلحہ خریدتے ہیں اور ریگا کے بینک لُٹنے سے بچنے کی وجہ پولیس کی بروقت کارروائی نہیں بلکہ حملہ آوروں کی اپنی ناکامی تھی۔
ریاست کے داخلہ سیکرٹری افضل امان اللہ نے کہا تھاکہ ریگا جیسے علاقے نکسلیوں کے نشانے پر رہتے ہیں اور ایسے معاملوں میں خفیہ معلومات معیاری نہیں ہوتیں۔ان کے مطابق کوئی مخصوص خفیہ معلومات نہ ہونے کے سبب نکسلی حملوں کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ نیپال سے متصل اضلاع مشرقی چمپارن، مدھوبنی اور سیتامڑھی ماؤ نواز باغیوں کی تحریک کا مرکز رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ نیپال اور بہار کی سرحد کے آس پاس کے علاقوں کے باشندوں کی رشتہ داریاں ہیں۔ ایسے میں پولیس کے لیے اس بات کا تعین مشکل ہوتا ہے کہ کون عام باشندہ اور کون ممکنہ نکسلی حملہ آور ہے۔