Monday, 02 April, 2007, 15:17 GMT 20:17 PST
شہاب فضل
لکھنو
اترپردیش کے دارالحکومت لکھنو میں عید میلادالنبی کے جلوس کے دوران شیعہ اور سنی جھڑپ میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ مگر قابو میں ہیں۔
اس سلسلے میں پولیس نے ستائیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ جب کہ کانپور میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے نوجوان شمشاد کے اہل خانہ کو ضلع انتظامیہ کی طرف سے ایک لاکھ روپے کا معاوضہ دیا گیا ہے۔
پولیس نے تشدد سے متاثرہ ارما پور اور مسوان پور علاقے میں مسلم گھروں میں تلاشی لی ہے۔ پولیس نے آج وہاں فلیگ مارچ کیا۔ ڈائریکٹر جنرل پولیس دلجیت چودھری نے بتایا کہ حالات قابو میں ہیں لیکن پوری مستعدی سے کام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تشدد بھڑکانے کے الزام میں سماجوادی پارٹی کے امیدوار ستیش نگم اور تین افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے اور واقعہ کے مجسٹریٹ تفتیش کرائی جارہی ہے۔
سمجھوتہ بے معنی ہوچکا ہے |
عید میلادالنبی کے جلوس مدح صحابہ کے کنوینر مولانا عبدالعلیم فاروقی نے الزام لگایا ہے کہ ضلع انتظامیہ کے کچھ لوگ شر پسند عناصر سے ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’گزشتہ دو تین برسوں میں ہر بار سنیوں کے جلوس کے دوران تشدد رونما ہوتا ہے اور ہر سال ایک دو لوگوں کی موت ہوتی ہے‘۔
جب کہ شیعہ رہنما کلب جواد کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشارے پر کچھ شیعہ ایجنٹ اور سنی طبقے کے کچھ نوجوان فساد بھڑکانے کا کام کررہے ہیں۔
انہوں نے ضلع انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے۔
ضلع مجسٹریٹ رامیندر ترپاٹھی نے بتایا کہ حالات کو مزید کشیدہ ہونے سے بچانے کے لیے متاثرہ کشمیری محلہ، کاظمین، پاٹانالہ، سجاد باغ، مصاحب گنج ، اکبری گیٹ، جیسے علاقوں میں گھروں کی چھتوں پر بھی پولیس کے جوان تعنیات کیےگئے ہیں۔
علاقے کے سرکردہ رہنما مولانا خورشید فرنگی محلی نے کہا کہ جتنی فورس اب لگائی جارہی ہےاگر پہلے لگائی ہوتی تو یہ واقعہ نہ پیش آتا۔انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے قصداً تشدد کو موقع فراہم کیا ہے۔
غیر قانونی اسلحے کا استعمال |
لکھنو میں ماضی میں روایتی مذہبی جلوسوں کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ جس کی وجہہ سے ان جلوسوں پر وقتاً فوقتاً پابندی لگائی جاتی رہی ہے لیکن 1999 میں شیعہ سنی رہنماوں کے درمیان ایک سمجھوتے کے بعد شیعہ فرقے کو نو اور سنی فرقے کو ایک جلوس نکالنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔