Sunday, 01 April, 2007, 07:28 GMT 12:28 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
پٹنہ میں دریائے گنگا پر بنے ملک کے سب سے لمبے پُل ’گاندھی سیتو‘ کی خستہ حالی اس پر سے گزرنے والے مسافروں کے لیے پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔
گاندھی سیتو بہار کے شمالی اور جنوبی حصے کو بذریعہ سڑک جوڑنے والا سب سے اہم پُل ہے۔ اس کے علاوہ نیپال سے زمینی رابطے کے لیے بھی یہ پُل بہت اہمیت کا حامل ہے۔
تقریباً ساڑھے پانچ کلومیٹر لمبے اس پُل کے مغربی حصے پر تو گزشتہ تین سال سے مرمت کا کام ہو رہا ہے تاہم اب اس کا مشرقی حصہ بھی قابلِ مرمت ہے۔ پُل کی خستہ حالی کے سبب کئی جگہوں پر آمدو رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس حالت میں پُل پر کوئی گاڑی خراب ہو جائے یا کوئی حادثہ پیش آجائے تو مسافرگھنٹوں پر محیط ٹریفک جام میں پھنس جاتے ہیں۔
اس پُل کا افتتاح سنہ انیس سو بیاسی میں آنجہانی وزیراعظم اندرا گاندھی نے کیا تھا۔ پُل کو بنانے والی کمپنی گیمن انڈیا کے مطابق کسی ندی کے اوپر بنا یہ سڑک کا پُل اپنے زمانے میں دنیا کا سب سے لمبا پُل تھا۔
![]() |
پٹنہ سے براہ راست ٹرین کے سفر کے لیے گنگا ندی پر ایک ریل پُل بھی بن رہا ہے جس کے مکمل ہونے میں ابھی دو سال اور ہیں۔
بہار میں سڑکوں کی تعمیرات کے محکمے کے سیکرٹری آر کے سنگھ کے مطابق پُل کی خستہ حالی کی رپورٹ مرکز کی متعلقہ وزارت کو بھیج دی گئی ہے۔
مسٹر سنگھ کے مطابق پُل کے ڈھانچے میں کئی مقامات پر دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت ہی اس کی مرمت کے لیے ضروری فنڈز مہیا کرے گی جس کے حصول کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
قومی شاہراؤں کی تعمیرات کے محکمے کے چیف انجینئر سدرشن رام کے مطابق اس پُل کی تعمیر جس ٹیکنالوجی کی مدد سے کی گئی ہے اس قسم کے دیگر پُلوں میں بھی اس سے ملتے جلتے مسائل دیکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ مرکز اور ریاست کی مشترکہ کوششوں سے اس پُل کی مرمت کے مسائل حل کر لیے جائیں گے۔