Saturday, 31 March, 2007, 12:55 GMT 17:55 PST
جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے ایک منصوبے کے تحت رکن ممالک کے طلباء کو اعلٰی اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے جلد ہی ایک یونیورسٹی بنائی جائےگی۔
اس منصوبے پر کام کرنے والے ماہرین کی ورکنگ گروپ کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کردی ہیں اور امکان ہے کہ سارک کے آئندہ کے اجلاس میں رکن ممالک اس پر اتفاق کر لیں۔
بھارت کے خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن کا کہنا ہے کہ مجوزہ ’ساؤتھ ایشیا یونیورسٹی‘ کے قیام کے بارے میں سارک کانفرنس کے دوران ایک بین الحکومتی سٹیئرنگ کمیٹی کا قیام ممکن ہے تاکہ اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا’ابھی ساؤتھ ایشیا یونیورسٹی کے قیام کے لیے بہت کام باقی ہے لیکن میرے خیال سے اگر کانفرنس ورکنگ گروپ کی رپورٹ تسلیم کرلیتی ہے تو اصولی طور پر اس کے قیام اور خاکے پر فیصلہ رکن ممالک کے رہنما کریں گے‘۔
شیو شنکر مینن نے کہا کہ ماہرین کےگروپ نے بھارت میں ہی چند ممبران پر مشتمل فیکلٹی کے ساتھ اس کے آغاز کی سفارش کی ہے۔ اس پر بھی غور و فکر ہو رہا ہے کہ بعد میں یونیورسٹی کے دیگر مراکز رکن ممالک میں قائم کیے جائیں۔
شیو شنکر مینن کے مطابق یونیورسٹی رکن ممالک کے ہونہار طلباء کے لیے ہوگی جس میں دنیا کے بہترین اساتذہ کی خدمات مہیا کی جائیں گی۔
![]() |
’ساؤتھ ایشیا یونیورسٹی‘ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ اور نیپال کے ریسرچ اسکالرز کا گہوارہ ہوگی اور اسے بہترین سہولیات سے آراستہ کیا جائےگا۔
سارک ممالک کی یونیورسٹی ریگولٹری باڈی نے اس پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک بنگلہ دیشی نژاد پروفیسرگوہر رضانے یونیورسٹی کا کانسیپٹ نوٹ تیار کیا ہے۔ سارک کانفرنس میں رکن ممالک کی طرف سے اس کی منظوری کے بعد سٹیئرنگ کمیٹی اس کے کورس، فنڈ، فیکلٹی اور اس کے تعمیری پہلوؤں پر غور و فکر کرے گی۔