Thursday, 29 March, 2007, 07:26 GMT 12:26 PST
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اعلی تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کے لیے 27 فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے حکومتی فیصلہ پر روک لگا دی ہے۔
عدالت کا کہنا ہےکہ پسماندہ ذاتوں کے لیے قابل اعتبار جائزے کی عدم موجودگی میں ریزرویشن نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے پسماندہ ذات کے لیے ریزرویشن پر رواں تعلیمی سال کے لیے ہی روک لگائی ہے۔
ریزرویشن کے اس فیصلے کو متعدد افراد نے اس بنیاد پر چیلنج کیا تھا کہ حکومت نے پسماندہ ذاتوں کے لیے سیٹیں مخصوص کرنے کا جو پیمانہ متعین کیا ہے اس کی بنیاد 1931 کی مردم شماری ہے جوغیرمستند ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت پہلے پسماندہ ذاتوں کے اعداد و شمار کا صحیح تعین کرے تاکہ پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آنے والی تمام ذاتوں کے بارے میں پوری اور مکمل جانکاری حاصل کی جا سکے۔ بعض عرضی گزاروں نے پسماندہ ذاتوں کو رزرویشن دینے کے آئینی جواز کو چیلنج کیا تھا۔
اس معاملے کی آئندہ سماعت اگست میں ہوگی۔
مختلف جائزوں کے مطابق ہندوستانی آبادی میں دلت اور قبائلی ساڑھے 22 فیصد ہیں جبکہ پسماندہ ذاتوں کا تناسب پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔
ملک میں اعلی ذات کے ہندوؤں کی تعداد پچیس فیصد سے کم ہے لیکن تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں روایتی طور پر ان اعلی ذات کے ہندوؤں کا غلبہ رہا ہے۔
تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کے طلبہ کی نمائندگی بہتر کرنے کے لیے ہی حکومت نے ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اگرچہ عبوری ہے لیکن آئندہ تعلیمی سال سے ریزرویشن کے نفاذ پر روک لگنے سے ریزروشن کے حامیوں کو زبردست دھچکا پہنچا ہے۔