Wednesday, 28 March, 2007, 13:14 GMT 18:14 PST
ہندوستان کی ریاست بہار میں ایک شخص کو چالیس کلو چاول کے بدلے گزشتہ تین عشرے سے جبری مزدوری کرنی پڑ رہی ہے۔
سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ ایسے معاملے بہت کم سامنے آتے ہیں تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر اس خبر کی تصدیق ہو جاتی ہے تو زمیندار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
مرکزي وزیر منحت آسکر فرنانڈیز نے اس خبر پر کہا ہے ’ملک سے بندھوا یا جبری مزدوری کا خاتمہ اس لیے ممکن نہیں ہو سکا ہے کیوں کہ عوام میں بیداری پیدا نہیں ہوئی ہے اور سماج اس کے لیے ذمہ دار ہے‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر یہ خبر صحیح نکلتی ہے تو قصوروار کے خلاف ضروری کارروائی کی جائےگی۔
اس طرح کے غلامی اور بندھوا مزدوری کے خلاف کام کرنے والے ادارے ’انٹی سلیوری انٹرنیشنل‘ کے مطابق جبری مزدوری پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے‘۔
ادارے کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں جبری مزدوری پر 1976 میں پابندی عائد کی گئی تھی لیکن آج بھی لاکھوں مرد، عورتیں اور بچے اس غلامی کے نظام میں پھنسے ہوئے ہیں۔
جواہرمانجھی نامی یہ مزدور بہار کے پیے پور برکی گاؤں میں اپنے چار بیٹے اور اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہیں۔
جواہر مانجھی کا کہنا ہےکہ اب تک اس قرض کے بدلے وہ زمیندار کو کتنا چاول دے چکے ہيں انہیں خود بھی اس کے بارے میں پتہ نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ زمیندار نے رہائی کے لیے تقریبا پانچ ہزار روپے ادا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اتنی بڑی رقم ان کی حیثیت سے باہر ہے۔
اس سلسلے میں زمیندار سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔