http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 26 March, 2007, 14:52 GMT 19:52 PST

منجوناتھ کے قاتلوں کو سزائیں

انڈین ائیل کارپوریشن کے سربراہ منجوناتھ شنموگم کے قتل معاملے میں اترپردیش میں واقع لکھمپور کھیری کی ایک ذیلی عدالت نے ایک ملزم کو سزائے موت اور دیگر سات افراد کو عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

منجوناتھ کا قتل سال 2005 میں کیاگيا تھا۔ انہوں نے تیل کے کاروبار میں مبینہ طور پر ملاوٹ کرنے والے ایک 'ریکٹ' کو بے نقاب کیا تھا۔اور اسی وجہ سے اس ریکٹ کے افراد نے ان کا قتل کردیا تھا۔ اس معاملے میں پون کمارعرف مونو متل سمیت آٹھ افراد ملزمان میں شامل تھے۔

پیر کے روز لکھمپور کھیری کی عدالت نے اپنے فیصلے میں اہم ملزم مونو متل کو پھانسی کی سزا سنائی جبکہ دیگر سات افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

جسٹس ایس ایم اے عابدی نےگزشتہ جمعہ کے روز استغاثہ اور صفائی کے وکلاء کے بیانات کے بعد ملزمان کو قصوروار قراردیا تھا۔

اس معاملے کے اہم ملزم مونو متل کھیری ضلع کے گولا گوکرم میں ایک پیٹرول پمپ کے مالک تھےاور منجوناتھ نے ان کے پیٹرول پمپ میں ملاوٹ پائی تھی اور اسے بند کرنے کا حکم کرنے دیا تھا۔

دیگر سات ملزمان میں دیوش اگنی ہوتری ہیں جن پر منجوناتھ کو گولی مروانے کا الزام تھا۔ عدالت نے ملزمان پر قتل، ثبوت مٹانے اور آرمز ایکٹ کی خلاف ورزیوں کا قصوروار پایا تھا۔

منجوناتھ کے قتل کے بعد ایک ٹرسٹ کی تشکیل کی گئی تھی جو اس مقدمے میں منجوناتھ کے کنبے کی مدد کررہا تھا۔

ٹرسٹ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف ملا ہے اور باقی دیگر سات کو بھی موت کی سزا ملے اس کے لیے وہ ہائی کورٹ میں درخواست دینگے۔

دوسری جانب مونومتل کے وکلاء نے اس فیصلے کو جانب دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلہ کے خلاف وہ ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔

منجوناتھ کے قتل کے خلاف ملک گیر سطح پر زبردست ردعمل ہوا تھا۔اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ لکھنؤ کے فارغ التحصیل طلباء، بعض غیر سرکاری تنظیموں نے احتجاج کیا تھا اور انصاف دلانے کے لیے زبردست مہم چلائی تھی۔ ہندوستانی میڈیا نے بھی ان کے قتل کے معاملے میں اپنی دلچسپی دکھائی تھی۔ مقتول منجوناتھ اعلی تعلیمی ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ لکھنؤ کے طالب علم تھے۔