Thursday, 22 March, 2007, 14:41 GMT 19:41 PST
سی بی آئی نےگزشتہ ہفتے ریاست مغربی بنگال کے نندی گرام علاقے میں پولیس فائرنگ کے متعلق اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔
نندی گرام میں پولیس فائرنگ سے چودہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد نندی گرام ميں مجوزہ خصوصی اقتصادی خطے کے قیام کی مخالفت کر رہے تھے۔
سی بی آئی نے رپورٹ کی نوعیت کے بارے میں کو ئی تفصیلات نہیں دی ہیں تاہم سی بی آئی کے ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ جب کسان نندی گرام میں مظاہرہ کر رہے تھے تو پولیس کے ساتھ ساتھ بعض دیگر مسلح افراد نے بھی فائرنگ کی تھی۔
گزشتہ سنیچر کے روز سی بی آئی نے نندی گرام علاقے میں واقع اینٹوں کے بھٹّوں میں چھپے دس افراد کو گرفتار کیا تھا اور ان کے پاس سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا تھا۔ گرفتارشدگان کے پاس سے نندی گرام کا نقشہ اور لال رنگ کے پرچم بھی برآمد کیے گئے تھے۔
حکمراں جماعت مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اس حوالے سے اپنی جماعت کے کارکنوں کے ملوث ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔گرفتار ہونے والے افراد نے سی بی آئی کو بتایا تھا کہ وہ حکمران جماعت کے لیے کام کرتے ہیں۔
سی بی آئی نے پولیس کے اس بیان میں بھی تضاد پایا کہ کسانوں کے احتجاجی مظاہرے پر پولیس نے کتنی گولیاں چلائی تھیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس نے سینتیس گولیاں چلائیں جبکہ سی بی آئی نے جائے وقوع سے خاصی بڑی تعداد میں گولیوں کے خول برآمد کیے تھے اور وہ خول ایسی گولیوں کے تھے جو پولیس استعمال نہیں کرتی۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد مقامی افراد نے یہ بھی شکایت کی تھی کہ علاقے سے بعض افراد لاپتہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے نندی گرام معاملے پر حزب اختلاف نے پورے ہفتے پارلیمان کی کارروائی چلنے نہیں دی۔ اپوزیشن جماعتیں مرکزی حکومت سے مغربی بنگال کی حکومت کو برخاست کرنے کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں۔